اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ویکسینیشن، تعلیم اورسلامتی سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ویکسینیشن، تعلیم اورسلامتی سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ویکسینیشن، تعلیم اورسلامتی سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی۔ ای سی سی کااجلاس بدھ کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کردہ سمریوں کاجائزہ لیاگیا اور ان کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کی سمری پر فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کیلئے 2.8 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی، کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف ڈی آئی ایک اہم قومی پروگرام ہے، جس کے تحت 80لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین کے ذریعے قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ بنایاجارہاہے، یہ گرانٹ صوبوں کے ساتھ اشتراک سے ویکسینز، سرنجز اور کولڈ چین آلات کی مشترکہ خریداری کے تسلسل کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ اجلاس میں وزارت تجارت کی کی جانب سے پیش کردہ سمری کی بھی منظوری دی، جس میں امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی تجویز شامل تھی۔ یہ ترمیم اریکا نٹ (چھالیہ) کی درآمد سے متعلق ہے، جو ملکی منڈی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اور تجارتی لحاظ سے اہم شے ہے۔اجلاس کوبتایاگیاکہ وزیر اعظم کی منظوری سے متعارف کرائے گئے نئے فریم ورک کے تحت پری شپمنٹ انسپکشن اور بہتر ریگولیٹری نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ زرعی و غذائی حفاظتی معیار پر عمل درآمد ممکن ہو، تنازعات میں کمی آئے اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق تجارت کو سہولت ملے۔

اجلاس میں وزارتِ دفاع کے تحت ایئرپورٹس سکیورٹی فورس کے لیے بھی 306 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ یہ فنڈز ضروری مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوں گے، جن میں وزیر اعظم کے امدادی پیکج کے تحت ادائیگیاں، لیو پریپریشن ریزرو (کی رقم کی ادائیگی اور سفری و یومیہ الاو نسز شامل ہیں۔اجلاس میں وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے پیش کردہ سمری کی بھی منظوری دی، جس کے تحت 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ فنڈز سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے اندرونی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں اور انہیں ترجیحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں دانش اسکول کُری، اسلام آباد کا قیام اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے تحت وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ای سی سی نے فنڈز کے استعمال کی مؤثر نگرانی اور ٹریکنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت، کارکردگی اور مطلوبہ نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے واضح کارکردگی اہداف اور رپورٹنگ کا مضبوط نظام وضع کیا جانا چاہیے۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی (پاور) سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے وفاقی سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔