اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):جاز ورلڈ نے اپناکلینک اور فکر فری کے ذریعے صحت اور مالی تحفظ تک رسائی میں موجود رکاوٹیں دور کرنے کی اپنی کوششوں کو اجاگر کیا جس سے پاکستان بھر میں لاکھوں افراد کے لیے بنیادی خدمات تک رسائی ممکن ہوئی ، یہ پلیٹ فارمز ٹیلی میڈیسن، ای فارمیسی، تشخیصی سہولیات اور ڈیجیٹل انشورنس کو یکجا کرکے طویل عرصے سے موجود صحت کی سہولیات اور انشورنس میں کمی کو دور کرنے میں خاص طور پر کم وسائل والی کمیونٹیز اور خواتین کے لیےمدد دے رہے ہیں۔یہاں جاری بیان کے مطابق پاکستان میں صحت کی سہولیات اور انشورنس کی رسائی کے حوالے سے کئی بنیادی مسائل موجود ہیں، ملک میں ہزار افراد کے لئے ایک ڈاکٹر سے بھی کم شرح ہے اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان سہولیات میں فرق کی وجہ سے بروقت طبی علاج کی رسائی یکساں نہیں۔ کل صحت کے خرچ کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ گھرانے خود برداشت کرتے ہیں جبکہ انشورنس کی رسائی بہت محدود ہے جس کے باعث زیادہ تر لوگ مالی تحفظ کے بغیر رہ جاتے ہیں۔ خواتین کو مزید رکاوٹوں کا سامنا ہے جن میں نقل و حرکت کی دشواریاں، قیمت کی پابندیاں اور مخصوص طبی سہولیات تک محدود رسائی شامل ہیں۔عالمی یوم صحت کے موقع پر جاز ورلڈ نے اپناکلینک اور فکر فری کے ذریعے صحت اور مالی تحفظ تک رسائی میں موجود رکاوٹیں دور کرنے کی اپنی کوششوں کو اجاگرکرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی سے کام کرنے والا ہیلتھ ٹیک پلیٹ فارم اپنا کلینک صارفین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ڈاکٹروں، طبی اور تشخیصی سہولیات سے جوڑ کر صحت کی سہولت بڑھا رہا ہے۔ اپناکلینک کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 6 لاکھ ہے، اس فلیٹ فارم پر7 ہزار سے زیادہ ڈاکٹروں کو شامل کیا گیا ہے اور روزانہ اوسطاً 1,600 مشاورتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ 24/7 فوری ڈاکٹر مشاورت، لیب ٹیسٹنگ اور فارمیسی سپورٹ جیسی خدمات آسان اور مکمل طبی دیکھ بھال فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے مخصوص شعبے جیسے گائناکالوجی میں تربیت یافتہ ماہرین خواتین کو صحت کی سہولت دینے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں تاکہ کم وسائل والی کمیونٹیز تک معیاری صحت پہنچائی جا سکے۔اسی طرح، جاز ورلڈ کا انشور ٹیک پلیٹ فارم فکر فری مالی تحفظ کے خلا کو دور کر رہا ہے اور 18 کیٹیگریز میں انشورنس فراہم کر رہا ہے جن میں صحت، زندگی، ذاتی حادثہ اور خواتین پر مرکوز منصوبے شامل ہیں۔ فکر فری کے ماہانہ ایک کروڑ تیس لاکھ (13 ملین )فعال صارفین ہیں اور ڈیڑھ کروڑ (15 ملین) انشورنس پالیسیز جاری کی جا چکی ہیں جس سے ڈیجیٹل انشورنس حل کی مضبوط پذیرائی ظاہر ہوتی ہے۔ خواتین صارفین کا حصہ 30 فیصد ہے جنہیں خواتین کی صحت اور اہم بیماریوں کے لیے مخصوص منصوبوں کے ذریعے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔اپنا کلینک اور فکر فری مل کر ایک مربوط ہیلتھ ٹیک اور انشور ٹیک نظام تشکیل دیتے ہیں جو مشاورت، علاج اور مالی تحفظ کو جوڑ کر فعال طبی دیکھ بھال ممکن بناتا ہے اور نقد خرچ پر انحصار کم کرتا ہے، یہ طریقہ خواتین کو بھی مضبوط بناتا ہے کیونکہ اس سے نجی مشاورت، خود مختار انشورنس کے حقوق اور اہم صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی ممکن ہوتی ہے۔علی فہد پریزیڈنٹ جاز لائف سٹائل وینچرز نے کہا کہ پاکستان میں صحت کی سہولیات تک رسائی اور مالی تحفظ دو سنگین مسائل ہیں، اپنا کلینک اور فکر فری کے ذریعے ہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مشاورت، ادویات اور انشورنس کو قابلِ رسائی بنا کر اہم رکاوٹیں دور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ وسعت اور شمولیت پر ہے خاص طور پر خواتین کو صحت اور تحفظ تک خود مختار رسائی دینا جو جازورلڈ کے بیٹر لائف فار آل’کے مقصد کے مطابق ہے۔عالمی یومِ صحت کے موقع پر پاکستان میں جاز ورلڈ ان پلیٹ فارمز کو مزید وسعت دے کر صحت اور انشورنس کے خلا کو کم کرنے، مالی استحکام کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات تک وسیع رسائی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔