اسلام آباد۔10اپریل (اے پی پی):سینئر قانون دان و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے ایک مؤثر سفارتی پل کا کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو ممکنہ بڑی جنگ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، ان کے مطابق 8 اپریل 2026 کی جنگ بندی اہم موڑ ثابت ہوئی جس نے نہ صرف فوری تصادم کو روکا بلکہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ اس بحران کی جڑیں اپریل 2025 میں شروع ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں تھیں جہاں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سکیورٹی جیسے معاملات زیر بحث آئے، تاہم باہمی عدم اعتماد اور جنوری 2026 میں عمان میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑ گئی۔
حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ میں میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں اور بحری جھڑپوں نے مشرق وسطیٰ کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا، اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں جبکہ توانائی، ٹرانسپورٹ اور شہری ڈھانچے کو بھی بھاری نقصان پہنچا، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں میں بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2026 کے وسط تک صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی تھی جس پر پاکستان نے بھرپور سفارتی کوششیں شروع کیں، اسلام آباد نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران سے مسلسل رابطہ رکھا بلکہ بیجنگ، ماسکو، ریاض اور یورپی دارالحکومتوں سے بھی مشاورت کر کے جنگ بندی کے لیے عالمی حمایت حاصل کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی تین بنیادی نکات پر مبنی تھی جن میں شہری جانوں کا تحفظ، علاقائی استحکام اور غیر جانبدار پلیٹ فارم کے تحت مذاکرات کی بحالی شامل ہیں، اس ضمن میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی دیکھنے میں آئی جس نے پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے بحال ہوئے جس کے نتیجے میں 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی، اس کے بعد 11 اپریل سے اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کا آغاز بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ عالمی برادری نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور چین، روس، سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے تسلسل کی حمایت کی ہے، اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں امن قائم ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں میں بھی استحکام آئے گا۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔