پشاور۔ 10 اپریل (اے پی پی):عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کےلیے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کےلیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کے بعد اسلام آباد امن کا دارالحکومت بن گیا ہے۔ عالمی توجہ کے مرکز کے طور پر ابھرتا پاکستان دو حریفوں کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کےلیے تیار ہے جبکہ بین الاقوامی میڈیا خطے کے نازک اور تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے سفارتی کردار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل تیار ہے جس کا مقصد دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور مشرق وسطیٰ میں مزید تناؤ کو روکنا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔
بڑے بین الاقوامی اور قومی اداروں نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت اہم مذاکرات میں شامل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو دو دیرینہ حریفوں کے درمیان ایک عالمی ثالث کے طور پر ایک بے مثال پوزیشن میں کھڑا کر دیا ہے جو علاقائی تناؤ کے اس مرحلہ پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔گومل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت اور ماس کمیونیکیشن کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مرزا جان نے کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوششیں دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں جس نے تہران اور واشنگٹن کو ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کا ایک سنہری موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ اسلام آباد کے منفرد سفارتی تعلقات نے اسے ایک پل کے طور پر کام کرنے کے قابل بنایا ہے جس سے دونوں ممالک اپنے مسائل کے حل کے لیے براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر مرزا جان نے کہا کہ اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی کے سائے میں ہونے والے ان مذاکرات کے خاص طور پر علاقائی امن، معاشی استحکام اور توانائی کی منڈیوں کےلیے عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران زیر بحث آنے والے ممکنہ کلیدی مسائل میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی، ایران پر پابندیاں اور وسیع تر جنگ بندی کے انتظامات شامل ہیں۔ ڈاکٹر مرزا جان نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق لچک اور وہ سیاسی بصیرت دکھائیں گے جو اسلام آباد امن معاہدے پر اتفاق رائے کے لیے ناگزیر ہے۔پاکستان نے مذاکرات کی سہولت کاری کےلیے بین الاقوامی سطح پر مقام حاصل کیا ہے اور اب حتمی نتائج کی تمام تر ذمہ داری دونوں ممالک کی قیادت پر ہوگی۔ ڈاکٹر مرزا جان نے کہا کہ کئی عالمی رہنماؤں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے رابطہ کیا ہے اور دونوں حریفوں کے درمیان جنگ بندی کرانے میں ان کے مثبت کردار کا اعتراف کیا ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سید شاہجہان نے کہا کہ پاکستان اپنی غیر جانبداری اور دونوں ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کی وجہ سے ایک اعلیٰ سفارتی رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے خلوص نیت سے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ایران پر بمباری کی اپنی آخری تاریخ میں دو ہفتوں کی توسیع کرے اور ایران سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ خیر سگالی کے طور پر اسی مدت کےلیے آبنائے ہرمز کو کھول دے۔
چونکہ دنیا نے کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے اہم ثالثی کردار کا اعتراف کیاہے، اس لیے وزیراعظم شہباز شریف کی متصادم ممالک سے کی گئی درخواست صدر ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے ٹھیک پہلے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی جنہوں نے دھمکی دی تھی کہ ایران کی پوری تہذیب منگل کی رات ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود عالمی میڈیا کی کوریج نے ایک عظیم سفارتی کھلاڑی کے طور پر پاکستان کے ابھرنے کا وسیع پیمانے پر اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس اہم سفارتی کردار نے بھارتی قیادت کو خاموش کر دیا ہے اور بھارتی میڈیا کی مایوسی سب نے دیکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے کے مستقبل کو نمایاں طور پر تشکیل دے سکتی ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں، اسلام آباد کا کردار بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جہاں پاکستان جیسے علاقائی ممالک دور رس عالمی نتائج والے تنازعات میں ثالثی کےلیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔