اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ عالمی منڈیوں میں دباؤ اور بین الاقوامی بحرانوں کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور ایندھن کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ جاری رکھا جائے گا۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور جاری تنازعات نے بین الاقوامی آئل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اختیار کردہ کفایت شعاری اقدامات کے باعث ملکی کھپت پر زیادہ اثر نہیں پڑا اور صوبائی حکام کو ان اقدامات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے موٹر سائیکل استعمال کرنے والے افراد کے لیے ہدفی سبسڈی متعارف کرائی ہے تاکہ روزمرہ سفر کرنے والوں پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے قیمتوں میں رد و بدل کی توقع تھی جس پر اب عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ خرم شہزاد نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت اہل موٹر سائیکل سواروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ ریلیف مستحق افراد تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مشکل معاشی حالات میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ایندھن کی قیمتوں کا باقاعدگی سے ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ محدود وسائل کے باوجود ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح کا ہے اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ دبئی جیسے تیل پیدا کرنے والے شہر میں بھی قیمتوں میں 70 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، تاہم پاکستان کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاشی حالات میں بہتری کے ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اسی رفتار سے کمی آئے گی اور حکومت کی جانب سے ریلیف اقدامات اور قیمتوں کا جائزہ جاری رکھا جائے گا۔