عالمی درجہ بندی میں پاکستانی محقق پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب حافی کو ’’سینچری میرٹ آئیکون‘‘ قرار دینے کا اعلان

عالمی درجہ بندی میں پاکستانی محقق پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب حافی کو ’’سینچری میرٹ آئیکون‘‘ قرار دینے کا اعلان

اسلام آباد۔30مارچ (اے پی پی):اکیسویں صدی کے نمایاں عالمی انتخاب برائے جریدہ نقوش قابلیت میں پاکستانی محقق اور آرچ ریسرچر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب حافی کو نمایاں برتری حاصل ہوئی ہے جہاں بین الاقوامی ادارہ امپیکٹ ہال مارکس نے دنیا کے 195 ممالک کی 1.9 ملین موثر شخصیات میں سے 181 افراد کو Century Merit Icons کے طور پر نامزد کیا ہے۔

اس فہرست میں جنوبی ایشیا اور چین سے 20 ممتاز شخصیات شامل ہیں جن میں پاکستان سے ڈاکٹر اورنگزیب حافی کی شمولیت ایک اہم علمی اعزاز قرار دی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق Quarticentennial Merited Impacts Gazette (2000–2025) کے لیے ہونے والے اس پچیس سالہ عالمی انتخابی عمل میں ڈاکٹر اورنگزیب حافی کو ایک ہمہ جہت اور بین الشعبہ جاتی محقق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے جن کی تحقیق کاسمولوجی، ماحولیاتی سائنس، حیاتیاتی نظام، ٹاکسیکولوجی، پبلک ہیلتھ ماڈلنگ اور فجیٹل پیڈاگوجکس سمیت 90 سے زائد علمی شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

ماہرین انہیں جدید دور کا پولی میتھ قرار دیتے ہیں۔ان کے اہم نظریاتی فریم ورک جیسے میگنیٹو ہائیڈرو ٹروپزم اور IRT ٹیراٹو کائینیٹکس ماڈل، حیاتیاتی نظام اور ماحولیاتی اثرات کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں نئی راہیں کھولتے ہیں۔ اسی طرح محدود وسائل والے علاقوں میں کورونا کے پھیلائو سے بچائو، صنعتی آلودگی کی میپنگ اور کمزور آبادیوں کے لیے صحت عامہ کے خطرات سے متعلق پیشگی وارننگ سسٹمز کی تیاری بھی ان کے نمایاں تحقیقی کارناموں میں شامل ہے۔2004ء کے سونامی کے دوران سری لنکا میں ان کی قیادت میں چائلڈ ریٹارڈیشن رسک اسیسمنٹ پروگراموں کا اجراء انسانی خدمت اور عملی تحقیق کی ایک اہم مثال قرار دیا جاتا ہے۔

ان خدمات کے اعتراف میں انہیں سپریم نائٹ ہڈ جیسے تاریخی اعزاز سے بھی نوازا گیا جبکہ بعد ازاں انہیں نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا تاہم انہوں نے اخلاقی تحفظات کی بنیاد پر اس نامزدگی سے دستبرداری اختیار کی۔تعلیم کے شعبے میں ان کا AZH Deca-Archic Phygital Literacy Model طبعی اور ڈیجیٹل تعلیم کے درمیان خلا کو کم کرنے کی ایک نمایاں کوشش قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے زیر زمین پانی کو زہریلے اثرات سے بچانے کے لیے عوامی سطح کے ماڈلز بھی ان کی تحقیق کا اہم حصہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس عالمی فہرست میں جنوبی ایشیا اور چین کی دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں جنہوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔