وفاقی محتسب برائے ہراسانی فوزیہ وقار کی اٹلی میں عالمی محتسب کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی

وفاقی محتسب برائے ہراسانی فوزیہ وقار کی اٹلی میں عالمی محتسب کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی

اسلام آباد۔29مئی (اے پی پی):وفاقی محتسب ہراسانی فوزیہ وقار نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں اطالوی پارلیمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی محتسب ادارہ (آئی او آئی) کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق 28 اور 29 مئی کو ہونے والی اس کانفرنس میں 67 ممالک سے محتسب اداروں کے نمائندوں اور 150 سے زائد محتسب شخصیات نے شرکت کی۔

شرکاء میں یورپی محتسب ٹیریسا انجینہو، ترکیہ کے محتسب ایرونک ایرکان بالتا اور پولینڈ کی محترمہ اینا بیالیک سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ افتتاحی اجلاس بعنوان ’’نئے عالمی چیلنجز: پیچیدہ انتظامی نظام، ڈیجیٹلائزیشن اور شہری حقوق‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے فوزیہ وقار نے ڈیجیٹل دور میں ابھرنے والے خطرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیپ فیک، جعلی تصاویر، آواز کی نقل اور مصنوعی طور پر تیار کردہ قابل اعتراض مواد خواتین کو ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے اور خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے محفوظ انداز میں شواہد جمع کرنے، ڈیجیٹل مواد کے فوری تحفظ، سخت رازداری، متعلقہ اداروں کے مابین مؤثر رابطے اور ادارہ جاتی جوابدہی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی محتسب نے کہا کہ پاکستان نے 2022 میں انسداد ہراسگی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے فری لانسرز، گیگ ورکرز، گھریلو ملازمین، ہوم بیسڈ ورکرز، انٹرنز، طلبہ، اپرنٹس اور ریموٹ ورکرز کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا ہے جبکہ آن لائن اور ورچوئل ورک پلیسز کو بھی قانون کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روم ڈیکلریشن ابھرتے ہوئے انتظامی و حکومتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی مشترکہ عالمی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ فوزیہ وقار نے کہا کہ پاکستان میں فوسپاہ # کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں جہاں نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں وہیں پیچیدگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں شہری حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات، جدید ادارہ جاتی نظام اور رسائی و جوابدہی پر مسلسل توجہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کی ساکھ اس بات سے وابستہ ہے کہ شہری خود کو سنا گیا، محفوظ اور نمایاں محسوس کریں جبکہ ڈیجیٹلائزیشن انصاف تک تیز، محفوظ اور زیادہ انسانی رسائی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے ڈیجیٹل دور میں عالمی نظام انصاف کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل ادارہ جاتی عزم اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔