بیجنگ۔26مئی (اے پی پی):پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری دورہ چین کے اختتام پر جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ چینی ماہرین کے مطابق یہ دورہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں پاک چین آہنی بھائی چارے کو مزید مستحکم بنانے کا باعث بنے گا۔ بیجنگ میں قائم سفارتی و بین الاقوامی مطالعاتی غیر سرکاری چینی تھنک ٹینک چارہر انسٹیٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چینگ شیزونگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کا اختتام ایک تاریخی مشترکہ اعلامیہ پر ہوا جس نے اس اعلیٰ سطحی دورے کو غیر معمولی تزویراتی اہمیت عطا کی ہے۔
یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان ہر موسم کی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور بدلتی ہوئی عالمی و علاقائی صورتحال میں دیرینہ آہنی بھائی چارے کو مستحکم کرنے کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ میں سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو ترجیح دی گئی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فلیگ شپ منصوبے کے طور پر سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں تعاون کو صنعتی اشتراک، گرین انرجی، ڈیجیٹل معیشت، زرعی جدیدکاری اور عوامی فلاح تک وسعت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کو درپیش فوری معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی پائیدار ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوں گے اور دونوں ممالک کے عوام کو عملی فوائد پہنچائیں گے۔
مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک نے سکیورٹی تعاون مزید گہرا کرنے پر بھی اتفاق کیا جو دوطرفہ منصوبوں کے محفوظ اور مستحکم آپریشن کی ضمانت ہے۔پروفیسر چینگ نے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ اعلامیہ کی روح کے مطابق بین الاقوامی اور علاقائی امور پر سٹریٹجک ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ’’ون چائنا پالیسی‘‘ پر غیر متزلزل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادانہ ترقی کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثالی نمونہ بن چکا ہے۔
پروفیسر چینگ کے مطابق یہ دورہ محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ 75 برس پر محیط گہری دوستی کا تسلسل اور مستقبل کے تعاون کے لیے ایک طویل المدتی خاکہ ہے۔ یہ دورہ چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کی حامل قریبی برادری کی تعمیر، علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا اور پاک چین لازوال آہنی بھائی چارے کا ایک نیا سنہری باب رقم کرے گا۔