اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے زیر اہتمام ’’آبنائے ہرمز میں کشیدگی، علاقائی توانائی کی ترسیل کو آگے بڑھانے کے امکانات‘‘کے موضوع پر ایک ویبنار منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر عمر عمر آ ل عبید لی نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔منگل کو جاری پریس ریلیز کے مطابق ویبنار میں اس بات پر تفصیلی گفتگو کی گئی کہ آبنائے ہرمز کا بحران کس طرح جغرافیائی سیاست، توانائی کے تحفظ اور عالمی سپلائی چینز کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔
ویبنار کے آغاز میں مقررین نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ اور علاقائی اقتصادی استحکام کا بنیادی ستون ہے، خصوصاً پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے اس کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ڈاکٹر عمر ال عبیدلی نے کہا کہ حالیہ جغرافیائی کشیدگی نے عالمی سپلائی چینز میں پہلے سے موجود کمزوریوں کو مزید بڑھا دیا ہے،ان کے مطابق یہ بحران حالیہ تاریخ میں عالمی توانائی نظام کو درپیش شدید ترین رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز خلیجی معیشتوں کی درآمدات و برآمدات کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے جبکہ یہ چین، جنوبی کوریا، یورپ اور دیگر خطوں تک پھیلی عالمی توانائی اور صنعتی سپلائی چینز کے لیے بھی ایک اہم راہداری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی عالمی معیشت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مربوط ہو چکی ہے، جس کے باعث سمندری گزرگاہوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات بہت تیزی سے پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں،ان کے مطابق امریکا جیسے ممالک، جو براہِ راست علاقائی تنازع کا حصہ نہیں، وہ بھی عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ذریعے بالواسطہ طور پر متاثر ہوتے ہیں، جس کے اثرات ان کی داخلی معیشت اور سیاسی صورتحال پر بھی پڑتے ہیں۔ویبنار میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے خلیجی ممالک اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک پر کئی جہتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سمندری تجارت کے علاوہ فضائی حدود، کارگو لاجسٹکس اور متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب جیسے علاقائی ٹرانزٹ مراکز کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔پاکستان کے حوالے سے مقررین نے کہا کہ ملک کو درآمدی توانائی پر انحصار، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر و نقل و حرکت میں رکاوٹوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے سفارتی کردار کو بھی سراہا گیا تاہم کہا گیا کہ ثالثی کی یہ کوششیں اقتصادی، انتظامی اور سکیورٹی اخراجات میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہیں۔
ویبنار کے اختتام پر دو اہم پالیسی نکات پر زور دیا گیا،پہلا یہ کہ صرف اقتصادی باہمی انحصار امن کی ضمانت نہیں دیتا بلکہ بعض اوقات اسے دباؤ اور coercion کے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بغیر پائلٹ اور کم لاگت ہتھیاروں کی جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور کم خرچ دفاعی حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے بصورت دیگر ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کم وسائل کے باوجود عالمی انفراسٹرکچر کو متاثر کرنے کی صلاحیت برقرار رکھیں گے۔