اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ گرمی کو مات دینے اور پیاس بجھانے کیلئے شہری روایتی دیسی مشروبات کا رخ کر رہے ہیں۔املی آلو بخارا شربت کا لازوال ذائقہ پسندید روایت کو زندہ رکھتے ہوئے رہائشیوں کو تازگی بخش رہا ہے۔ اپنے کھٹے، میٹھے اور تازگی بخش ذائقے کے حوالہ سے املی اور آلو بخاراسے تیار کردہ روایتی مشروب کاربونیٹیڈ مشروبات اور کمرشل جوسز کی مقبولیت کے باوجود کئی دہائیوں سے پسندیدہ مشروب ہے۔بھیگی ہوئی املی، آلو بخارا ، چینی، کالا نمک، پودینہ اور ٹھنڈا پانی ڈال کر تیار کئے جانا والا شربت عام طور پر برف کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور اسے پودینے کے تازہ پتوں سے سجایا جاتا ہے۔
کچھ دکاندار اس کا ذائقہ بڑھانے کے لیے لیموں کا رس اور مصالحہ بھی شامل کرتے ہیں۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں گلیوں ، محلوں اور شاہراہوں پر امل آلو بخارا شربت کے سٹالز قائم ہیں اور دوپہر کے اوقات میں جب درجہ حرارت اپنی بلند ترین سطح پر ہوتا ہے تو اس کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ مشروب نہ صرف جھلسا دینے والی گرمی سے راحت فراہم کرتا ہے بلکہ یہ اپنے قدرتی اجزاء اور ہاضمے کے فوائد کے لیے بھی قابل قدر ہے۔شربت فروخت کرنے والے عمران جو گزشتہ دس سال سے گرمیوں میں املی آلو بخارا شربت فروخت کر رہا ہے،اس نے’’ اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ لوگ روایتی شربتوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے استعمال کے بعد وہ تروتازہ اور صحت مند محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ املی اور آلو بخارا مل کر ایک منفرد ذائقہ بناتے ہیں جس سے صارفین لطف اندوز ہوتے ہیں، خاص طور پر گرمی کے شدید دنوں میں۔یونیورسٹی کی ایک طالبہ حبا نے’’ اے پی پی ‘‘کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ یہ مشروب مجھے بچپن کی گرمیوں کی یاد دلاتا ہے جب سافٹ ڈرنکس کی وسیع دستیابی سے عام طور پر گھروں میں شربت تیار کئے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ املی آلو بخارا شربت جیسے روایتی مشروبات نہ صرف تازگی بخشتے ہیں بلکہ ثقافتی تعلق کا احساس بھی فراہم کرتے ہیں۔
اس طرح کے مشروبات ہمارے فوڈ ورثے کا حصہ ہیں۔ یہ گرم موسم میں صحت مند اور بہت زیادہ اطمینان بخش ہوتے ہیں۔ماہرین صحت موسم گرما کے قدرتی مشروبات کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہدیت کرتے ہیں کہ پھلوں اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مشروبات ہائیڈریشن کو برقرار رکھنے اور شدید گرمی کی لہروں کے دوران ہاضمے کو سہارا دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
صحت مند طرز زندگی اور قدرتی کھانوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری کے ساتھ، روایتی مشروبات آہستہ آہستہ نوجوان صارفین میں بھی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔دکانداروں نے کہا کہ دیسی شربتوں کی مانگ گرمیوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر مون سون کے موسم میں ۔ روح افزا، ستو اور املی آلو بخارا شربت مقامی دکانداروں کے مینو اور جڑواں شہروں کے خاندانی باورچی خانوں میں ایک خاص مقام کا حامل ہے۔