بیجنگ۔24مئی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹ میں چیف وہپ اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کےچیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور چین کی سیاسی جماعتیں، تھنک ٹینکس اور میڈیا مشترکہ اور شواہد پر مبنی ایسا بیانیہ تشکیل دیں جس میں ترقی اور سکیورٹی کو ایک دوسرے کی مخالف ترجیحات کے بجائے باہمی طور پر مضبوط بنانے والے عوامل کے طور پر دیکھا جائے۔ چین۔پاکستان پولیٹیکل پارٹیز فورم کے دوسرے اور سی پیک پولیٹیکل پارٹیز جوائنٹ کنسلٹیشن میکانزم کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوامی بیانیہ تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، اس لئے میڈیا اور عوام کی رہنمائی کی جائے تاکہ پاک چین دوستی کی حقیقی، مثبت اور مستقل انداز میں ترجمانی ہو سکے۔
اعلیٰ سطحی سیاسی باہمی اعتماد کے فروغ‘ کے عنوان سے ہونے والے پینل مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خلیج پیدا کرنے کیلئے چلائی جانے والی گمراہ کن مہمات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرنا ہوگا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ’’پارٹی پلس‘‘ میکانزم، سلک روڈ ورکشاپس اور ثقافتی تبادلوں کے پروگراموں کے ذریعے پاک چین دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ بالآخر معاہدے یا اقتصادی راہداری نہیں بلکہ عوام ہی اس شراکت داری کو پائیدار بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال اور غیر یقینی بین الاقوامی ماحول میں پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت نے سمت کا تعین کر دیا ہے، اب سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وژن کو عملی شکل دیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے فورمز کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا، رابطوں کو مضبوط بنانا اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی سیاسی تبدیلی سے پاک چین شراکت داری کے تسلسل پر اثر نہ پڑے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کیلئے بھرپور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق پاکستان اور چین کے عزم کو غیر متزلزل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک پولیٹیکل پارٹیز کنسلٹیشن میکانزم کو اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ اس اسٹریٹجک شراکت داری کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں، خواتین اور نوجوانوں تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری، خصوصی اقتصادی زونز اور ڈیجیٹل رابطہ سازی پر توجہ دی جا رہی ہے، لہٰذا سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ہمیشہ ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مسلسل حمایت کی جبکہ پاکستان نے ون چائنا پالیسی پر اپنے غیر متزلزل مؤقف کو برقرار رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ باہمی اعتماد کبھی مفاداتی نہیں رہا بلکہ ہر مشکل مرحلے میں اس کا عملی مظاہرہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعاون تجارت، بنیادی ڈھانچے، توانائی، سائنس، تعلیم، خلائی تحقیق اور دفاع سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صرف سی پیک کے تحت 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے 38 منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں جن سے پاکستان میں 8 ہزار میگاواٹ بجلی قومی نظام میں شامل ہوئی جبکہ 500 کلومیٹر سے زائد شاہراہیں تعمیر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب، زلزلوں اور کورونا وبا جیسے مشکل اوقات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے 1.6 ارب عوام کے دلوں میں موجود یہ رشتہ کسی بھی گمراہ کن مہم، تقسیم کی سیاست یا بیرونی دباؤ سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان اور چین ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کیلئے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 21 مئی 1951 کو قائم ہونے والے یہ تعلقات ہر گزرتی دہائی کے ساتھ مزید مضبوط، گہرے اور اہم ہوتے گئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما اور سابق وزیراعظم شہیدذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں پاک چین ’’آہنی دوستی‘‘ کا معمار قرار دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شہیدذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیر خارجہ 1963 میں ٹرانس قراقرم سرحدی تنازع کے حل کیلئے معاہدہ طے کیا جبکہ فروری 1972 میں بطور صدر دورہ چین کے دوران پاکستان کیلئے 30 کروڑ ڈالر کے اقتصادی اور دفاعی تعاون کا حصول ممکن بنایا اور چین نے پاکستان کے 11 کروڑ ڈالر سے زائد کے واجب الادا قرضے بھی معاف کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ شہیدذوالفقار علی بھٹو نے پس پردہ چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی روابط کے قیام اور چین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر تسلیم کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وژن کو صدر آصف علی زرداری نے آگے بڑھایا، جنہوں نے اپنے ادوارِ صدارت میں سی پیک کیلئے سیاسی بنیاد فراہم کی اور گوادر پورٹ کا انتظام پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی سے لے کر چین کے حوالے کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حالیہ دورہ چین کے دوران صدر آصف علی زرداری نے پاک چین اسٹریٹجک تعلقات میں مزید پیش رفت کا خود مشاہدہ کیا، جہاں چانگ شا اور سانیا میں اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں، سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کی کوششیں، پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ تقریب میں شرکت اور توانائی، زراعت و صنعتی ترقی سے متعلق چھ نئے معاہدوں پر دستخط اہم پیش رفتوں میں شامل تھیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بطور سینیٹر اور اپنی جماعت کے نمائندے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس سیاسی ورثے کو عملی اقدامات میں ڈھالتے ہوئے پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔