اسلام آباد۔22مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور مشترکہ تعاون پر مبنی ہیں جبکہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ دوطرفہ دوستی کے مضبوط رشتوں کی عکاس ہے،
گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان سے ارجنٹائن کو برآمدات میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ دونوں معیشتوں کے درمیان وسیع امکانات کا ثبوت ہے۔جمعہ کو جمہوریہ ارجنٹائن کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ارجنٹائن کےقومی دن کی تقریب میں آپ کے ساتھ شریک ہونا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے، ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ اس سال پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ یہ اہم سنگِ میل ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط دوستی اور تعاون کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اورپاکستانی عوام کی جانب سے میں ارجنٹائن کی حکومت اور عوامِ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، ارجنٹائن کا قومی دن فخر کا ایک ایسا لمحہ ہے جو ارجنٹائن کے عوام کی جرات، عزم اور اپنی قوم کی تقدیر سنوارنے کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اورارجنٹائن کے تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور مشترکہ امنگوں پر مبنی ہیں،اگرچہ ہمارے ممالک جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے دور ہیں، تاہم تجارت، سفارت کاری، زراعت، سائنس، ثقافت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے ہماری دوستی مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان سے ارجنٹائن کو برآمدات میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے یہ ایک قابلِ ذکر کامیابی ہے اور ہماری دونوں معیشتوں کے درمیان موجود وسیع امکانات کی واضح علامت ہے ،یہ ہماری کاروباری برادریوں کے اعتماد اور ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان، ادویات، جراحی آلات، زرعی مصنوعات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں موجود مواقع کی عکاسی کرتا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ پاکستان اور ارجنٹائن تجارت کے فروغ،سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، جدت طرازی کے فروغ اور ادارہ جاتی روابط کو مستحکم بنانے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ہمارے دونوں ممالک غذائی تحفظ، موسمیاتی استحکام، پائیدار ترقی اور جامع معاشی نمو جیسے شعبوں میں بھی مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں، جہاں گہرا تعاون دونوں اقوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار ارکان کی حیثیت سے پاکستان اورارجنٹائن نے ہمیشہ مکالمے،کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی حمایت کی ہے،ہم عالمی امور میں ارجنٹائن کے مثبت کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بین الاقوامی فورمز پر مسلسل تعاون کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن کی ثقافت نے دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا ہے اور شاید اس کی سب سے نمایاں مثال فٹبال ہے۔ پاکستان میں بھی،ارجنٹائن کی طرح، فٹبال کو بے حد جوش و جذبے سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانیوں کی کئی نسلیں ارجنٹائن کے فٹبال کے جذبے کی مداح رہی ہیں، چاہے وہ ڈیاگو میراڈونا کی غیرمعمولی صلاحیت اور کرشمہ ہو یا لیونل میسی کی شائستگی، انکساری اور شاندار کھیل۔اس خوشی کے موقع پر ہم ارجنٹائن کی ثقافت کی رنگا رنگی اس کی موسیقی، ادب، کھانوں، کھیلوں اور اس کے عوام کی گرمجوشی کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھرارجنٹائن کے عوام کو پاکستان کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان دوستی آنے والے برسوں میں مزید فروغ پاتی رہے۔