پاکستان اور پولینڈ کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، سفارتکاری اور میڈیا کا کردار قومی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم ہے، پولش سفیر ماچے پریسارسکی

پاکستان اور پولینڈ کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، سفارتکاری اور میڈیا کا کردار قومی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم ہے، پولش سفیر ماچے پریسارسکی

اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):پاکستان میں پولینڈ کے سفیر ماچے پریسارسکی نے امریکہ ایران جنگ بندی کے حوالے سےپاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتےہوئے کہا ہے کہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات ہی بہترین عمل ہے، پاکستان اور پولینڈ کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، سفارتکاری اور میڈیا کا کردار قومی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم ہے۔ ان خیالات اظہار انہوں نے جمعرات کو نیشنل پریس کلب(این پی سی) اسلام آباد کے دورے کے موقع پر این پی سی کے پروگرام میٹ دی پریس میں کیا ۔ پریس کلب آمد پر صدر این پی سی عبدالرزاق سیال سمیت سینئر صحافیوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا۔ پولش سفیر نے کہا کہ ایران امریکہ مسئلہ حل ہونے کی قوی امید ہے، تنازعہ کا پر امن حل نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے بہتر ہوگا ، کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کی آزادی کا احترام کرنا لازم ہے،روس کے یوکرائن پر حملے کے عالمی معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،پاکستان اور پولینڈ کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، سفارتکاری اور میڈیا کا کردار قومی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولش سفارتخانے کا صحافیوں سے گہرا تعلق ہے،پولینڈ کےوزیر خارجہ سیکورسکی گذشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر آئے تھے جہاں ان کی صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار سے نہایت خوشگوار ماحول میں بہت مفید ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا مقصد یورپی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو بہتر بنانا ، عوام کے فائدے اور معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ جی ایس پی پلس کو پاکستان اپنے برآمدات بہتر بنانے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ پولش سفیر نے کہا کہ دورے کے بعد فالو اپ کے طور پر دونوں وزرائے خارجہ نے ٹیلیفون پر رابطہ بھی کیا،خطے میں امن و استحکام پاکستان اور دنیا کے لئے اہم ہے۔پولش وزیر خارجہ کے دورے میں باہمی سیاسی مشاورت کا نیا باب کھلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی غیر قانونی تارکین وطن، انسداد منشیات و قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون پر بامقصد ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ پولش پاکستان تجارت تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے،پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی حجم3.1 ارب ڈالر ہے جس میں سے 1.2 ارب ڈالر پاکستانی برآمدات ہیں،جی ایس پی پلس کی وجہ سے پاکستان کو فائدہ ہو رہا ہے،ٹیکنالوجی، انتظام، آئی ٹی کے شعبے میں دونوں ممالک میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے،سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی بہت سے منصوبے کارڈز پر ہیں،متعدد پولش کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں،سیاحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماچے پریسارسکی نے کہا کہ پاکستان دہائیوں سے پولش سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جبکہ کوہ پیمائی کے حوالے سے بھی پولش سیاحوں کے لئے اہم ہے۔

کے ٹو سر کرنے والی پہلی خاتون پولش تھیاس پولش خاتون نے 1986 میں کے ٹو سر کی، ہر سال ہزاروں پولش سیاح پاکستان کے نادرن ایریا کی سیر کو آتے ہیں،پولینڈ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی اسٹوڈنٹس کیلئے پولش یونیورسٹیز میں تعلیمی سہولیات میسر ہیں، پولش یونیوسٹیز میں یورپ کی نسبت اخراجات بہت کم ہیں تاہم تعلیمی معیار یورپ کے دیگر ممالک کے ہم پلہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا امریکہ -ایران تنازعہ میں ثالثی کا کردار اہم ہے اور ہم پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہتے ہیں،چند ہی ممالک ایسے ہیں جن کا تنازعہ کے دونوں فریقین سے تعلقات ہیں ،یہ دونوں فریقین کی جانب سے اعتماد کی عکاسی ہے،ہم ان مذاکرات کا کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ قیام امن انتہائی اہم ہے،پولش سرحدوں پر پہلے ہی روس- یوکرین کا تنازعہ ہے ،ہم مذاکرات اور سفارت کاری کو تنازع کے حل میں استعمال کرنے کی سپورٹ کرتے ہیں۔

یوکرین کے مسئلے کو اقوام متحدہ قراردادوں، ملکی سالمیت و خودمختاری کے اصولوں کے تحت حل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں ،پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایشوز موجود ہیں ۔مشرق وسطی کی طرح پاک بھارت تعاون کو مذاکرات سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔