اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کیلئے حاصل کی گئی زمین کے معاوضہ کی مد میں اپر کوہستان کے علاقے ہربن کے متاثرین کو مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے ادا کر دیئے، دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے متاثرین کو زمین اور املاک کے عوض اب تک مجموعی طور پر 64 ارب 24 کروڑ روپے ادا کئے جا چکے ہیں۔
ترجمان واپڈا کے مطابق متاثرین میں معاوضہ کے چیک بوشی داس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران تھورہربن گرینڈ امن جرگہ کے ذریعے تقسیم کئے گئے۔ تقریب میں دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے جنرل منیجر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر نزاکت حسین، ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان عزیز اللہ جان، ڈپٹی کمشنر دیامر لیفٹیننٹ (ر)محمد اویس عباسی ، تھور-ہربن گرینڈ امن جرگہ کے اراکین، ہربن اور بھاشاکے عمائدین، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ تھور۔ہربن گرینڈ امن جرگہ نے 2022 میں ضلع اپر کوہستان کے ہربن اور ضلع دیامر کے تھور قبائل کے درمیان کئی دہائیوں پرانے سرحدی تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جس کے بعد متاثرہ زمین مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کی راہ ہموار ہوئی۔ واپڈا اب تک اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ کو 4 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد جبکہ ضلع دیامر کی انتظامیہ کو 59 ارب 76 کروڑ روپے سے زائد رقم زمین اور املاک کے معاوضے کی مد میں فراہم کر چکا ہے۔ اس طرح دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کیلئے زمین کے حصول اور املاک کی مد میں مجموعی ادائیگی 64 ارب 24 کروڑ روپے ہوچکی ہے۔ منصوبے کے لئے درکار 35 ہزار 924 ایکڑ زمین میں سے اب تک 33 ہزار 848 ایکڑ زمین حاصل کی جا چکی ہے جن میں 32 ہزار 428 ایکڑ گلگت بلتستان جبکہ ایک ہزار 420 ایکڑ خیبر پختونخوا میں واقع ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے نہایت اہم منصوبہ ہے۔ دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والے اس ڈیم میں 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور 4 ہزار 500 میگاواٹ ماحول دوست اور کم لاگت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 12 لاکھ ایکڑ اضافی اراضی سیراب ہوگی جبکہ قومی گرڈ کو ہر سال 18 ارب یونٹ سستی بجلی بھی فراہم کی جائے گی۔