مکہ مکرمہ۔17مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار یوسف نے پاکستان حج مشن کو ہدایات دی ہیں کہ پاکستانی عازمینِ حج کو بروقت مشاعر مقدسہ(منیٰ ،عرفات، مزدلفہ) پہنچایا جائے ، عازمین کی بسوں میں ایسے ’’مرشد‘‘ (رہنما) تعینات کیے جائیں جو منیٰ، عرفات کے خیموں اور مزدلفہ کے راستے جانتے ہوں۔ عازمین کو مشاعر مقدسہ جانے کے لیے بس یا ٹرین کے استعمال کا قبل از وقت پتہ ہونا چاہیے، اضاحی پراجیکٹ سعودی عرب کے ذریعے پاکستانی حجاج کی قربانی بروقت مکمل کی جائے گی۔ وہ اتوار کو عزیزیہ میں قائم پاکستان حج مشن کے دفتر میں حج انتظامات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا، ڈی جی پاکستان حج مشن عبدالوہاب سومرو، چیف کوآرڈینیٹر مرزا علی محسود اور دیگر حکام شریک تھے، جنہوں نے وفاقی وزیر کو ٹرانسپورٹ، فوڈ اور دیگر امور پر بریفنگ دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ وہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر انتظامات کا جائزہ لینے سعودی عرب پہنچے ہیں تاکہ عازمین کو ہر ممکن سہولت دی جا سکے اور شکایات کے ازالے میں کوئی کوتاہی نہ ہو، جبکہ انہوں نے سعودی حکومت کے بہترین انتظامات کو بھی سراہا۔ اس موقع پر سیکرٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا نے واضح کیا کہ حج انتظامات کے پلاننگ فیز کو مزید مربوط بنا دیا گیا ہے تاکہ عازمین کو مشاعر کے ایام میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو اور متعلقہ کوآرڈینیٹرز نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ امسال تقریباً 1 لاکھ 19 ہزار سرکاری عازمین کے لیے مکہ مکرمہ کے علاقوں عزیزیہ، حئی نسیم اور بطحا قریش میں 273 عمارات حاصل کی گئی ہیں، جبکہ سعودی حکومت نے ایامِ مشاعر کے لیے ہیلپ لائن 1966 بھی متعارف کروائی ہے۔ فوڈ کوآرڈینیٹر کے مطابق بہترین حکمتِ عملی کی بدولت امسال کھانے کی شکایات ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔ٹرانسپورٹ انتظامات کے حوالے سے حکام نے مطلع کیا کہ مکہ مکرمہ میں حرم ٹرانسپورٹ کے لیے 450 بسیں مہیا کی گئی ہیں، تاہم رش اور سخت چیکنگ کے باعث فی الوقت ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے۔
اس رش کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر نماز سے 30 منٹ پہلے سعودی شٹل سروس بند کی جاتی ہے جس کے لیے طوافہ کمپنیوں اور سعودی حکام سے مسلسل رابطہ قائم ہے۔ دوسری جانب ڈائریکٹر مدینہ زاہد سہیل نے بتایا کہ تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد یعنی تمام 1 لاکھ 19 ہزار عازمین کو مرکزیہ میں رہائش فراہم کی گئی اور ان کو ریاض الجنہ کی زیارت کا عمل کامیابی سے مکمل کرا دیا گیا ہے۔