اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لئے سفارتکاری، بامعنی مذاکرات اور تعمیری شراکت داری پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قطر اور آذربائیجان کی اعلی قیادت کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کو آئندہ ورلڈ اربن فورم کے انعقاد پر نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ترجمان نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مشرقِ وسطیٰ تنازعہ کے لئے ذاتی ایلچی ژاں آرنو نے نائب وزیراعظم /وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
ژاں آرنو نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے تحسین کا اظہار کیا اور اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا گیا ۔نائب وزیراعظم /وزیرِ خارجہ نے علاقائی پیشرفت پر گفتگو کی اور کشیدگی میں کمی کے لئے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ پاکستان کے مسلسل رابطوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی پاکستان کے لئے مسلسل حمایت اور کردار پر شکریہ ادا کیا ،انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم /وزیرِ خارجہ امن کے فروغ اور سفارتی ذرائع کو آگے بڑھانے کی ہماری کوششوں کے تحت اپنے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے میں رہے۔8 مئی کو نائب وزیراعظم /وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن اور ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں سنگاپور کے ساحلی علاقے کے قریب امریکی حکام کی جانب سے تحویل میں لئے گئے ،بحری جہازوں پر موجود پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی فلاح و بہبود اور وطن واپسی پر بات چیت ہوئی ۔اس موقع پر علاقائی پیشرفت اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔11 مئی کو نائب وزیراعظم /وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔
ترجمان نے بتایا کہ سعودی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار کو سراہا اور خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری روابط کے دوران علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لئے اسلام آباد کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز سمیت بحری سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 12 مئی کو نائب وزیراعظم /وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آسٹریا کی وزیرِ خارجہ بیاتے مائنل رائزنگر سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آسٹریا کی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان علاقائی امن و استحکام کے لئے مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کے مسلسل سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقین نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ۔ نائب وزیرِ اعظم / وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای سے گفتگو کی جس میں حالیہ علاقائی پیشرفت خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان امن و استحکام کے لئے پاکستان کی سہولت کاری کی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں فریقین نے مسلسل سفارتکاری کی حمایت کا اعادہ کیا، دیرپا جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی اہمیت پر زور دیا جبکہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر اعلیٰ سطحی تبادلوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق میڈیا رپورٹنگ میں بعض اطلاعات میں کہا گیا کہ چینی فریق نے پاکستان پر ثالثی کی کوششیں بڑھانے پر زور دیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا جیسے پاکستان سے ’’مزید اقدامات‘‘ کا مطالبہ کیا گیا ہو۔
بعض مقامی اخبارات کی خبروں میں بھی یہی تاثر دیا گیا۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایسی رپورٹس گفتگو کی روح اور حقیقت دونوں کی درست عکاسی نہیں کرتیں۔ یہ گفتگو روایتی گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ وزیرِ خارجہ وانگ ای نے پاکستان کے تعمیری ثالثی کردار کو سراہا اور اس ضمن میں مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ پاکستان اس حوالے سے چین کی حمایت کا شکر گزار ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیارے کی موجودگی سے متعلق سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن، قیاس آرائیوں پر مبنی اور حقائق سے منقطع قرار دیا۔متعلقہ طیارہ جنگ بندی کے دوران اسلام آباد مذاکرات سے متعلق سفارتی سرگرمیوں کی معاونت کے لئے آیا تھا جس میں سفارتی عملے، سکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اہلکاروں کی آمدورفت شامل تھی اور اس کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا تحفظاتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لئے ایک تعمیری اور شفاف سہولت کار کے طور پر اپنے کردار کا اعادہ کیا جبکہ علاقائی امن، استحکام اور مسلسل سفارتی روابط کے لئے اپنے عزم کو بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ بنوں میں پولیس چوکی پر افسوسناک اور تشویشناک دہشت گرد حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔پاکستان نے 9 مئی 2026 کو بنوں کی فتح خیل پولیس پوسٹ پر بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی، جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات، تکنیکی انٹیلی جنس اور شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کارروائی کرنے والے دہشت گردوں نے کی۔اپنے احتجاجی مراسلے میں ہم نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور آئی ایس کے پی /داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوری، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ ملک کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور معاونین کا فیصلہ کن خاتمہ کیا جائے گا۔