سول حکومت کے اخراجات سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس میں مجموعی اعداد و شمار کو ضروری تناظر کے بغیر پیش کیا گیا ، وزارت خزانہ کی وضاحت

سول حکومت کے اخراجات سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس میں مجموعی اعداد و شمار کو ضروری تناظر کے بغیر پیش کیا گیا ، وزارت خزانہ کی وضاحت

اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں سول حکومت کے اخراجات سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس میں مجموعی اعداد و شمار کو ضروری تناظر کے بغیر پیش کیا گیا ہے جس سے وفاقی اخراجات کی نوعیت اور حجم کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوا ہے، اخراجات کے اعداد و شمار کو اہم اجزا اور عوامی فلاح وبہبود کے مدات کو نمایاں کئے بغیر پیش کرنا حکومت کے اخراجاتی رجحانات کی مکمل اور درست تصویر فراہم نہیں کررہا۔

جمعرات کویہاں جاری بیان میں وزارت خزانہ نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں سول حکومت کے اخراجات سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس میں مجموعی اعداد و شمار کو ضروری تناظر کے بغیر پیش کیا گیا ہے جس سے وفاقی اخراجات کی نوعیت اور حجم کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوا۔بیان کے مطابق رپورٹس میں ظاہر کئے گئے اضافے کا بڑا حصہ جاری مالی سال کے بجٹ میں اعلان کردہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں ایڈجسٹمنٹ اور صحت عامہ کے اہم منصوبوں، خصوصاً توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے لئے مختص رقوم سے متعلق ہے، ان عوامل کو درست تناظر میں دیکھا جائے تو غیر ملازمتی آپریشنل اخراجات میں حقیقی اضافہ نہایت محدود رہ جاتا ہے۔

وزارت خزانہ نے واضح کیاہے کہ گزشتہ مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران سول حکومت کے اخراجات 559 ارب روپے تھے جن میں 388 ارب روپے ملازمین سے متعلق اخراجات جبکہ غیر ملازمتی اخراجات کاحجم 171 ارب روپے تھا، جاری مالی سال کی اسی مدت کے دوران سول حکومت کے اخراجات 629 ارب روپے رہے جن میں 427 ارب روپے ملازمین سے متعلق اخراجات جبکہ 202 ارب روپے غیر ملازمتی اخراجات شامل ہیں، اس طرح سول حکومت کے مجموعی اخراجات میں اضافہ 12.5 فیصد بنتا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اخراجات کی تفصیل سے ظاہر ہورہاہے کہ ملازمین سے متعلق اخراجات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہواہے جس کی بنیادی وجہ وفاقی بجٹ میں اعلان کردہ تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافہ ہے،غیر ملازمتی اخراجات 171 ارب روپے سے بڑھ کر 202 ارب روپے ہو گئے، یعنی ان میں 31 ارب روپے کا اضافہ ہوام اہم بات یہ ہے کہ اس 31 ارب روپے اضافے میں سے 29 ارب روپے رواں مالی سال کے دوران توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے لئے مختص کئے گئے جو قومی عوامی صحت کا ایک اہم منصوبہ ہے اور جس کا مقصد بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے اگرای پی آئی کے لئے مختص رقم کو علیحدہ کر دیا جائے تو غیر ملازمتی اخراجات میں حقیقی اضافہ تقریباً 2 ارب روپے بنتا ہے۔

وزارت خزانہ نے کہاہے کہ اخراجات کے اعداد و شمار کو ان اہم اجزا اور عوامی فلاحی وبہبود کے مدات کو نمایاں کئے بغیر پیش کرنا حکومت کے اخراجاتی رجحانات کی مکمل اور درست تصویر فراہم نہیں کرتا۔