کراچی۔13مئی (اے پی پی):وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت کے دو اہم اہداف ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور ٹیکس پالیسی کو مساوات، انصاف اور شمولیت کے اصولوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ حکومت اس پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، ریاست اور شہریوں کے درمیان سماجی معاہدے کے تحت عوامی وسائل کو شفاف اور فلاحی انداز میں جمع اور استعمال کیا جانا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے ) اور کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے ) کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ ورکشاپ ’’پاکستان کا بدلتا ہوا ٹیکس نظام: چیلنجز، مواقع اور جدت‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مشیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اہم ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن کے تحت ٹیکس پالیسی سازی کو ٹیکس انتظامیہ اور وصولی کے نظام سے الگ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس کو اب آزادانہ طور پر منظم کیا گیا ہے تاکہ شفافیت، بہتر پالیسی سازی اور انتظامی کارکردگی کو فروغ دیا جا سکے۔
شرکاء کو ٹیکس پالیسی آفس کے لئے تحقیق، تجاویز اور قابلِ عمل سفارشات پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ اصلاحات کے لئے اشتراکی اور طویل المدتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کوئی بھی نظام مکمل نہیں ہوتا تاہم حکومت پائیدار اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔معیشت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مشیرِ خزانہ نے کہا کہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے باوجود مختلف شعبوں میں بحالی اور بہتری کے حوصلہ افزا آثار سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اصلاحات اور ترقی کا ایجنڈا میکرو اکنامک استحکام، ساختی اصلاحات، ڈیجیٹل پاکستان اقدامات، توانائی شعبے کی اصلاحات، ٹیرف میں بہتری، نجکاری، پنشن اور قرضہ اصلاحات اور رائٹ سائزنگ جیسے اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے نصف کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح تقریباً 3.8 فیصد رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ عارضی بحالی کے بجائے پائیدار اور دیرپا اقتصادی ترقی کا حصول ضروری ہے تاکہ بار بار بیرونی استحکام کے اقدامات کی ضرورت نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی اور بیرونی شعبوں کے اشاریوں میں بہتری سے میکرو اکنامک استحکام مضبوط ہو رہا ہے، عوامی مالیات بہتر ہو رہی ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
حالیہ مالیاتی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تاریخی سطح کے پرائمری سرپلس اور نمایاں مالیاتی استحکام حاصل کیا ہے جس سے ملکی اقتصادی ساکھ اور معاشی لچک میں اضافہ ہوا ہے۔مشیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان اصلاحات کو مائیکرو اور میکرو دونوں سطحوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے جن میں عوام کے لئے آسان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا اجرا شامل ہے تاکہ ملک بھر میں بینکاری اور مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت ٹیرف اصلاحات صنعتی مسابقت، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کے فروغ کے ساتھ ساتھ پاکستان کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے مؤثر انداز میں جوڑنے کی جانب اہم پیشرفت ہیں۔خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کا وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈا ساختی کمزوریوں کے خاتمے، سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور سرمایہ کاری کے لئے سازگار اور مسابقتی معیشت کے قیام پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جاری اقتصادی اصلاحات کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے جو ملک کی معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے ٹیکس پالیسی سے متعلق مباحث میں نوجوان ماہرین اور پیشہ ور افراد کی فعال شرکت کو سراہتے ہوئے اسے قومی معیشت کے استحکام کے لئے اہم قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورکشاپ سے سامنے آنے والی مثبت تجاویز اور سفارشات مستقبل کی پالیسی سازی اور عملدرآمد میں معاون ثابت ہوں گی۔تقریب میں چیئرمین پی ٹی بی اے اکیڈمی آف ٹیکسیشن، صدر کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن، کارپوریٹ رہنماؤں اور ٹیکس ماہرین نے بھی شرکت کی۔