ٹیکس ریٹرن فارم جیسے تمام اقدامات مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سسٹم کی مدد سے کیے جا رہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ اور عام کاروباری افراد کو صرف 8 سے 15 قطاریں یا خانے پر کرنا ہوں گے، ایف بی آر

ٹیکس ریٹرن فارم جیسے تمام اقدامات مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سسٹم کی مدد سے کیے جا رہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ اور عام کاروباری افراد کو صرف 8 سے 15 قطاریں یا خانے پر کرنا ہوں گے، ایف بی آر

اسلام آباد۔11مئی (اے پی پی):ٹیکس ریٹرن فارم جیسے تمام اقدامات مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سسٹم کی مدد سے کیے جا رہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ اور عام کاروباری افراد کو صرف 8 سے 15 قطاریں یا خانے پر کرنا ہوں گے۔فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر) نے واضح کیاہے کہ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر رائے اور تجاویز کے لیے اپ لوڈ کیے گئے 147 صفحات پر مشتمل ٹیکس ریٹرن جیسے تمام اقدامات مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سسٹم کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد ٹیکس دہندگان کو درست اور حقیقی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں سہولت فراہم کرنا ہے، تنخواہ دار طبقہ اور عام کاروباری افراد کو صرف 8 سے 15 قطاریں یا خانے پر کرنا ہوں گے۔ایف بی آر کی جانب سے پیرکویہاں جاری بیان کے مطابق ایف بی آر کی ویب سائٹ پر رائے اور تجاویز کے لیے اپ لوڈ کیے گئے 147 صفحات پر مشتمل ٹیکس ریٹرن پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنانے کی ایک اور کوشش ہے تاہم یہ تاثر حقائق کے منافی ہے اور اس حوالے سے چند وضاحتیں ضروری ہیں۔بیان میں کہاگیاہے کہ قانونی تقاضے کے تحت ہر قسم کے کاروبار اور مالی لین دین سے متعلق تمام خانے اور تفصیلات ویب سائٹ پر شامل کرنا لازم ہوتا ہے، اتنے زیادہ صفحات پر مشتمل دستاویز ہر سال معمول کا حصہ ہوتی ہے جس میں بینکاری، انشورنس، معدنیات، پٹرولیم نکالنے سے متعلق گوشوارے اور زیر استعمال اثاثوں کے شیڈولز بھی شامل ہوتے ہیں،اسے پیچیدہ ٹیکس ریٹرن تصور نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ تنخواہ دار طبقہ اور عام کاروباری افراد کو صرف 8 سے 15 قطاریں یا خانے پر کرنا ہوں گے۔

بیان کے مطابق فارم کی قبل از وقت اشاعت کا مقصد ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ریٹرنز کو حتی الامکان پہلے سے پر کرنا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو صرف معلومات کی تصدیق یا ضروری ترمیم کرنا پڑے،ایف بی آر یہ بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے کہ تمام ٹیکس دہندگان کو ان کے بارے میں دستیاب تھرڈ پارٹی ڈیٹا سے پیشگی آگاہ کیا جائے تاکہ وہ درست اور حقیقی معلومات پر مبنی گوشوارے جمع کرانے کی ضرورت سے باخبر رہیں۔بیان کے مطابق ریٹرن جمع کراتے وقت ایف بی آر جمع شدہ معلومات کی بنیاد پر ایسے اندراجات کے بارے میں ٹیکس دہندگان کو متنبہ بھی کر سکتا ہے جو بظاہر مشکوک یا غیر معمولی ہوں، مثلاً بعض اخراجات میں غیر معمولی اضافہ یا کاروباری آمدن کو نمایاں حد تک کم ظاہر کرنا تاہم حتمی اندراج کا اختیار بدستور ٹیکس دہندہ کے پاس ہوگا، البتہ اسے ممکنہ خطرات سے آگاہ کر دیا جائے گا۔بیان میں کہاگیاہے کہ یہ تمام اقدامات مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سسٹم کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد ٹیکس دہندگان کو درست اور حقیقی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔آن لائن فارم میں ظاہر ہونے والے خانے آسان اور قابل فہم ہوں گے جبکہ یہ اردو زبان میں بھی دستیاب ہوں گے ۔ اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے علاقائی زبانوں کو بھی شامل کرنے پر کام جاری ہے۔