اسلام آباد۔28اپریل (اے پی پی):یورپی یونین اور حکومتِ پاکستان کے تعاون سے وفاقی دارالحکومت میں پہلی مرتبہ اعلی سطح کا یورپی یونین پاکستان بزنس فورم منگل کوشروع ہوگیا جو دو طرفہ معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ فورم میں تقریباً 1000 سینئر پالیسی ساز، یورپی اور پاکستانی کاروباری رہنما، سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے شریک ہیں۔ یورپی یونین دنیا کی سب سے بڑی سنگل مارکیٹ ہے، بیرونِ ملک براہِ راست سرمایہ کاری کی بڑی برآمد کنندہ ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی ہے، یہ فورم یورپی یونین اور پاکستان کے معاشی اشتراک کو مزید فروغ دینے کا ایک اہم موقع فراہم کررہاہے ،فورم کا مقصد مضبوط تجارتی تعلقات کو بڑھا کر سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری، جدت اور پائیدار صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبولس نے فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات قائم ہیں اورانہیں اس بات پر فخر ہے کہ یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
انہوں نے کہاکہ فورم کا مقصد صرف ہمارے تجارتی تعلقات کا جشن منانا نہیں، بلکہ انہیں مزید گہرا، متنوع، ماحول دوست اور دیرپا سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہے، اس سے فریقین کو مشترکہ خوشحالی کی منزل کوحاصل کرنے میں مددملے گی ۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے معیشت کے بنیادی اشاریوں کو بہتر بنانے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات پرتفصیلی روشنی ڈالی۔وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے افتتاحی اجلاس سے کلیدی خطاب کیا۔افتتاحی اجلاس میں یورپی یونین پاکستان بزنس نیٹ ورک کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا، جو پاکستان میں کام کرنے والی 300 سے زائد یورپی کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا۔ اس نیٹ ورک کا مقصد ملک میں یورپی کاروباری اداروں کی مشترکہ آواز بننا، پالیسی سازوں کے ساتھ مکالمے کو آسان بنانا اور نئی یورپی کمپنیوں کو پاکستان میں مواقع تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
یورپی یونین کے گلوبل گیٹ وے منصوبے کے تحت پیدا ہونے والے مواقع بھی ایک خصوصی اجلاس میں پیش کیے گئے۔ یہ منصوبہ یورپی یونین کا سب سے بڑا بیرونی سرمایہ کاری پروگرام ہے، جس کا ہدف 2021 سے 2027 کے دوران 400 ارب یورو کی سرمایہ کاری کو متحرک اور محفوظ بنانا ہے۔ دن بھر کی گفتگو میں ترجیحی شعبوں میں مواقع اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں زرعی کاروبا ر،ڈیجیٹل جدت اور فِن ٹیک ،گرین لاجسٹکس،پائیدار ٹیکسٹائل،اورذمہ دارانہ کان کنی جیسے شعبہ جات شامل تھے۔ دو روزہ فورم کے دوران 600 سے زائد بزنس ٹوبزنس ملاقاتیں طے کی گئی ہیں، جس سے یورپی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں اور شراکت داری میں گہری دلچسپی ظاہرہورہی ہے۔ فورم کے دوران نئے مالیاتی پروگرامز اور شراکت داریوں پر دستخط ہونے کی بھی توقع ہے۔