اسلام آباد۔27اپریل (اے پی پی):زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 100 بیسز پوائنٹ بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیاہے،فیصلے کا اطلاق 28 اپریل سے ہوگا،مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3.8 فیصد نمو ہوئی، مالی سال 27ء کے بیشتر عرصے میں مہنگائی 5 تا 7 فیصد ہدفی حد کی بالائی سطح سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔
پیرکوسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعدجاری پریس ریلیز میں بتایاگیاہے کہ کمیٹی نے محسوس کیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کی طوالت سے کلی معیشت کے منظرنامے کو لاحق خطرات شدید ہوگئے ہیں۔
خاص طور پر توانائی کی عالمی قیمتیں، باربرداری کے اخراجات اور بیمہ پریمیئم تنازع سے پہلے کی سطح سے خاصے اوپر رہیں گے، سپلائی چین میں خلل نے بھی موجودہ غیر یقینی کیفیت بڑھا دی ہے۔
اگرچہ اب تک موصول ہونے والا ڈیٹا بڑی حد تک زری پالیسی کمیٹی کی توقعات کے مطابق ہی ہے تاہم اس عالمی پیش رفت کے اثرات آئندہ اہم اقتصادی اظہاریوں میں ظاہر ہوں گے۔ اس تناظر میں کمیٹی کا تجزیہ تھا کہ مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے اور اگلی چند سہ ماہیوں میں یہ ہدفی حد سے اوپر رہے گی۔
چنانچہ کمیٹی نے سخت پالیسی موقف برقرار رکھنا ضروری سمجھا تاکہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں اور موجودہ رسدی دھچکوں کے دورِ ثانی کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے تاکہ مہنگائی ہدفی حد کے اندر لائی جائے۔
میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا اہم ہوگا جو کہ پائیدار معاشی نمو کے لیے ضروری ہے۔بیان کے مطابق مشرق ِ وسطیٰ میں جغرافیائی اور سیاسی واقعات کے علاوہ زری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی اہم پیش رفت پر نظر ڈالی، پہلی، مارچ میں مہنگائی بڑھ کر7.3 فیصد ہوگئی جبکہ قوزی مہنگائی اضافے کے ساتھ 7.8 فیصد تک پہنچ گئی۔
دوسری، تازہ ترین سرویز میں مہنگائی کی توقعات اور صارفین اور کاروباری اداروں کے اعتماد میں بگاڑ دیکھا گیا۔ تیسری، مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3.8 فیصد نمو ہوئی جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 1.9 فیصد تھی۔
چوتھی، جولائی تا مارچ مالی سال 26ء کے دوران جاری کھاتے میں معمولی سرپلس درج کیا گیا۔ پانچویں، قرضوں کی خاصی واپسی کے باوجود سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 24 اپریل 2026ء تک تقریباً 15.8 ارب ڈالر ہیں جسے یورو بانڈز کے اجراء سے مدد ملی، کیونکہ پاکستان چار برس سے زائد کے وقفے سے بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں میں دوبارہ داخل ہوا۔ آخر میں، آئی ایم ایف کے ساتھ 27 مارچ کو سٹاف لیول کا سمجھوتہ طے پایا تھا۔
اس پیش رفت اور ابھرتے ہوئے خطرات کے تناظر میں زری پالیسی کمیٹی نے آج کے فیصلے کو وسط مدت میں قیمتوں کے استحکام کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔
کمیٹی نے بیرونی بفرز میں مسلسل اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کے اہم کردار کا اعادہ کیا۔ ان اقدامات کی بدولت حالیہ جغرافیائی و سیاسی تنازعے کے آغاز پر معیشت کی ابتدائی حالت ماضی قریب میں پیش آنے والے اسی نوعیت کے دھچکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط رہی۔ زری پالیسی کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں بیرونی کھاتے کو مزید لچک دار بنانے اور پائیدار معاشی نمو یقینی بنانے کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
مالی سال 26ء کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی حقیقی نمو عبوری طور پر 3.9 فیصد درج ہوئی جس کے بعد مالی سال کی پہلی ششماہی کی مجموعی نمو 3.8 فیصد رہی، جوگزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں اقتصادی سرگرمیوں میں وسیع البنیاد بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
بڑے پیمانے کی اشیاء سازی کی کارکردگی عمدہ رہی اور جولائی تا فروری مالی سال 26ء کے دوران اس میں 5.9 فیصد نمو ہوئی۔ صنعت اور خدمات کے شعبوں کے بلند تعدد والے اظہاریے فروری تک اقتصادی سرگرمیوں میں مستحکم تحرک دکھا رہے تھے تاہم مارچ میں ان میں اعتدال کی کچھ علامات ظاہر ہوئیں۔
زراعت میں نمو کے امکانات معمولی سے معتدل ہوئے جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ زراعت پر وفاقی کمیٹی نے اپنے اولین تخمینوں میں گندم کی جو ممکنہ پیداوار بتائی تھی، حقیقی پیداوار اس سے کم ہوئی۔ اس امر کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے جو متوقع اثرات چوتھی سہ ماہی میں صنعت اور خدمات کے شعبوں کی سرگرمی پر پڑیں گے ان کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ مالی سال 26ء میں جی ڈی پی کی حقیقی نمو سابقہ تخمینے کی نچلی سطح کے قریب رہے گی۔
مالی سال 27ء میں اقتصادی سرگرمیوں میں اعتدال جاری رہنے کا امکان ہے، اگرچہ یہ منظرنامہ متعدد خطرات پر منحصر ہے جن میں جاری تنازع کا دورانیہ اور اس کی شدت بھی شامل ہیں۔ فروری اور مارچ میں کرنٹ اکائونٹ لگاتار سرپلس رہنے کے نتیجے میں جولائی تا مارچ مالی سال 26ء کے دوران مجموعی طور پر جاری کھاتے میں معمولی سرپلس حاصل ہوا۔
اس کھاتے کو اہم معاونت کارکنوں کی مستحکم ترسیلات زر سے ملی۔ چنانچہ دشوار بیرونی حالات بشمول تناسبات تجارت کے خاصے بگاڑ کے باوجود مالی سال 26ء میں کرنٹ اکائونٹ سابقہ تخمین شدہ حد کی نچلی سطح کے قریب رہنے کا امکان ہے۔
فنانسنگ کے لحاظ سے حکومت نے اضافی دو طرفہ سمجھوتوں اور یورو بانڈز جاری کرکے بیرونی فنانسنگ فعال طریقے سے حاصل کی جس سے قرض اور واجبات کی حالیہ واپسی کا سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر پر اثر جذب کرنے میں مدد ملی۔ اس ضمن میں جون 2026ء تک سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا تخمینہ ہے۔
کمیٹی نے عالمی معاشی حالات میں بے یقینی کے پیش نظر زرمبادلہ ذخائر کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ بیان کے مطابق مارچ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولی ہدف سے کم رہی جس کے نتیجے میں جولائی تا مارچ مالی سال 26ء کے دوران مجموعی کمی بڑھ کر 611 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
اس سے قطع نظر مالکاری سے متعلق تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ مارچ تک مالیاتی خسارہ محدود رہا تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے نے مالیاتی نظم و نسق کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ تیل کی بین الاقوامی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ ملکی صارفین تک منتقل ہونے کے باعث کمزور طبقوں کے لیے ہدفی زر اعانت کی فراہمی ضروری ہوگئی۔ سال بھر کے بنیادی سرپلس ہدف کے حصول کے لیے اخراجات میں بڑی کٹوتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس ضمن میں زری پالیسی کمیٹی نے پائیدار مالیاتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جن میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانا اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے خساروں میں کمی لانا شامل ہے تاکہ مالیاتی پائیداری اور استحکام کو مضبوط بنایا جا سکے بیان کے مطابق زر وسیع کی نمو 10 اپریل تک گرکر14.5 فیصد رہ گئی جو 20 فروری کو16.0 فیصد تھی۔ یہ اعتدال بنیادی طور پر بینکوں سے خالص میزانی قرض گیری میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔
نجی شعبے کے قرضوں میں بدستور اضافہ ہوا اور وہ تقریباً 13 فیصد رہا جو معاشی سرگرمی میں بہتری اور پالیسی ریٹ میں گزشتہ کٹوتیوں کے تاخیری اثرات سے ہم آہنگ ہے۔
جولائی تا مارچ مالی سال 26ء کے دوران نجی شعبے کے قرضوں کا بہائو جاری سرمائے، معینہ سرمایہ کاری اور صارفی قرضوں سب میں بڑھ گیا۔ قرضوں کا شعبہ جاتی بہائو ٹیکسٹائل، تھوک اور خوردہ تجارت اور کیمیکلز میں مرکوز رہا جبکہ صارفی قرضوں میں مسلسل اضافہ گھریلو طلب میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔
زری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے واجبات کے زمرے میں زیر گردش کرنسی اور ڈپازٹس دونوں میں کمی آئی ہے۔ بیان کے مطابق مارچ میں عمومی مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی جبکہ قوزی مہنگائی بھی معمولی اضافے کے ساتھ 7.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع شروع ہونے سے قبل مہنگائی ہدفی حد کی بالائی سطح کے قریب پہنچنے کی پیش گوئی کی جا رہی تھی جس کی بنیادی وجہ منفی اساسی اثر تھا۔
نتیجتاً توانائی کی قیمتوں کے دھچکوں کے باعث ایندھن کے نرخوں میں اضافہ ہوا جس کے اثرات کرایوں میں اضافے کے ذریعے قوزی مہنگائی میں منتقل ہونا شروع ہو چکے ہیں، البتہ وافر رسد کی بدولت غذائی گرانی کے قابو میں رہنے سے عمومی مہنگائی پر اس کے اثرات کا کسی حد تک ازالہ ہونے کا امکان ہے تاہم مستقبل کے حوالے سے زری پالیسی کمیٹی کا تجزیہ یہ تھا کہ حالیہ رسدی دھچکہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کو دہرے ہندسوں میں لے جا سکتا ہے جس کے بعد اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ اس کے باوجود مالی سال 27ء کے بیشتر عرصے میں مہنگائی 5 تا 7 فیصد ہدفی حد کی بالائی سطح سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔
زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ یہ منظرنامہ خاص طور پر جاری تنازعے کی مدت اور شدت، توانائی کی عالمی قیمتوں میں ردوبدل کی ملکی معیشت میں منتقل ہونے کی مقدار اور مالیاتی خسارے میں ممکنہ اضافے جیسے متعدد خطرات پر منحصر ہے۔