اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):سیکرٹری وفاقی تعلیم ندیم محبوب نے ترلائی، اسلام آباد میں نان فارمل ایجوکیشن (این ای ایف) اساتذہ کی کلسٹر سطح کی تربیتی نشست کا دورہ کیا اور ملک میں غیر رسمی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ سکول سے باہر بچوں کے سیکھنے کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے لیے نان فارمل ایجوکیشن روڈمیپ کے تحت اساتذہ کی تربیت کے لیے ایک تدریجی (کاسکیڈنگ) ماڈل اختیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد غیر رسمی تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار کو مضبوط بنانا ہے۔ ٹریننگ آف ٹرینرز کے بعد اب کلسٹر سطح پر تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ معیاری تربیت نچلی سطح تک پہنچ سکے اور اساتذہ کو غیر رسمی تعلیمی ماحول کے مطابق عملی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ دورے کے دوران سیکرٹری تعلیم نے تربیتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور ماسٹر ٹرینرز و زیر تربیت اساتذہ سے گفتگو کی۔
ڈائریکٹر جنرل نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی) نے انہیں چار روزہ تربیتی پروگرام کے مقاصد، طریقہ کار اور شیڈول پر بریفنگ دی، جو کاسکیڈ ماڈل کے تحت جاری ہے۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جناب ندیم محبوب نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت غیر رسمی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، تعلیمی پسماندگی کو کم کرنے اور پسماندہ و دور دراز علاقوں کے بچوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں، ملٹی گریڈ تدریس، طالب علم مرکز اپروچ اور مؤثر کلاس روم مینجمنٹ کی جدید تکنیکوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ سیکرٹری نے منتظمین کو ہدایت کی کہ تربیت کو عملی کلاس روم اطلاق پر مرکوز رکھا جائے تاکہ اساتذہ سیکھے گئے ہنر کو فوری طور پر استعمال میں لا سکیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اساتذہ نان فارمل ایجوکیشن کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور وزارت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نان فارمل ایجوکیشن کو پاکستان کی تعلیمی حکمت عملی کے ایک اہم ستون کے طور پر مزید مستحکم کیا جائے گا۔

