بیجنگ۔18اپریل (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے چین کے کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھائیں پاکستان علاقائی تجارت، پیداوار اور برآمدات کے لیے ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں منعقدہ چین۔پاکستان سرمایہ کاری فروغ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں 70 سے زائد چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کا انعقاد آئی بی آئی گوولیان گوفان گروپ، پاکستانی سفارتخانہ اور بیجنگ فیڈریشن برائے صنعت و تجارت کے تعاون سے کیا گیا۔ خلیل ہاشمی نے کہا کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک محل وقوع، مسابقتی لیبر لاگت، سازگار سرمایہ کار پالیسیوں اور حکومتی معاونت کے باعث چینی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش منزل ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی، بنیادی ڈھانچہ، صنعت کاری، ڈیجیٹل معیشت اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں جنوبی ایشیا، خلیج اور وسطی ایشیا میں تقریباً تین ارب صارفین کی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں، جس سے پاکستان ایک علاقائی پیداواری اور برآمدی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے آئی بی آئی گوولیان گوفان کی جانب سے پاکستان میں پاکستان ڈیجیٹل معیشت مرکزی دفتر کے قیام کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل تجارت اور صنعتی روابط کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 60 سے زائد چینی کمپنیوں کے 8 سے 14 مئی کے دوران پاکستان کے دورے کا پروگرام ہے، جس میں علاقائی دفتر کی افتتاحی تقریب، کاروباری ملاقاتیں اور مختلف شہروں کے دورے شامل ہوں گے۔
آئی بی آئی گوولیان گوفان کے صدر چیان نے پاکستان کو کلیدی شراکت دار قرار دیتے ہوئے صنعتی تعاون اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر بیجنگ فیڈریشن برائے صنعت و تجارت کے نائب چیئرمین نے کہا کہ کانفرنس پالیسی ڈائیلاگ کو عملی تعاون میں بدلنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔کانفرنس کو چین میں پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی جانب سے پاکستان کے 21 ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔