آثارِ قدیمہ، تعمیرات اور ثقافتی روایات پر مبنی پائیدار ورثہ ہماری قومی شناخت کی بنیاد ہے،صدرِ مملکت کا عالمی یوم ورثہ پر پیغام

آثارِ قدیمہ، تعمیرات اور ثقافتی روایات پر مبنی پائیدار ورثہ ہماری قومی شناخت کی بنیاد ہے،صدرِ مملکت کا عالمی یوم ورثہ پر پیغام

اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ میں پوری قوم سمیت ان افراد کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں جو ہمارے مشترکہ ورثے کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں، یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم اپنی ثقافتی میراث کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھیں جس کی اہمیت کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا ہے،پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ ابتدائی قدیم حجری اور نو حجری ادوار سے لے کر کانسی کے زمانے کی وادیٔ سندھ کی تہذیب تک، مہرگڑھ، موئن جو داڑو اور گندھارا کی ثقافتی عظمت سے لے کر مغلیہ ادوار تک، ہماری سرزمین انسانی تخلیق، جدت اور استقامت کے مسلسل سفر کی عکاسی کرتی ہے، ان تہذیبوں نے آثارِ قدیمہ، تعمیرات اور ثقافتی روایات کی صورت میں ایک پائیدار ورثہ چھوڑا ہے جو ہماری قومی شناخت کی بنیاد ہے۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم ورثہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمارا غیر مادی ثقافتی ورثہ بھی نہایت اہم ہے، جس میں لوک داستانیں، زبانیں، موسیقی، ہنر اور فنونِ لطیفہ شامل ہیں۔ ہیر رانجھا، سوہنی ماہیوال ، عمر ماروی، سسی پنوں، آدم خان و درخانے، ہانی و شاہ مرید جیسی داستانیں، صوفی شعرا کا کلام اور قوالی، نیز علاقائی موسیقی کی دھنیں جن میں رباب، الگوزہ، طبلہ، شہنائی، بانسری، سرود، بینجو، سرنگی اور ڈھولک شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ثقافتی ورثہ اجتماعی یادداشت اور جذباتی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر ہماری شناخت اور اقدار کو برقرار رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے روایتی ہنر پاکستان کی ثقافتی تنوع اور مہارت کا مظہر ہیں۔ کشمیری کشیدہ کاری اور شال بافی سے لے کر سندھی اجرک اور رلی، بلوچی کڑھائی، ملتان کی نیلی مٹی کے برتن، پشاوری چپل، چترالی ٹوپیاں، چنیوٹ کی لکڑی کا کام اور ٹرک آرٹ تک، ہر فن اپنے اندر ایک منفرد کہانی سموئے ہوئے ہے اور ماضی کو حال سے جوڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عالمی ورثہ کے مقامات وادیٔ سندھ کی تہذیب، گندھارا کے بدھ مت فن اور برصغیر کے عرب و مغل ادوار کے قلعوں اور یادگاروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ مقامات ہماری تاریخ اور ثقافتی تنوع کے واضح مظاہر ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ شہریوں کے لیے ورثہ کوئی مجرد تصور نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ یہ کاریگروں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے، تاریخی شہروں میں سیاحت کو فروغ دیتا ہے اور مقامی معیشت کو تقویت بخشتا ہے۔

یہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کہ ہمارے بچے اسکولوں میں اپنی تاریخ کیسے سیکھتے ہیں اور کمیونٹیز اپنے ماحول اور شناخت کو کیسے برقرار رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا ہم ان قیمتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید تکنیکوں کے استعمال کے عزم پر قائم ہیں۔ ورثے کا تحفظ نہ صرف ایک ذمہ داری ہے بلکہ سیاحت، ثقافتی صنعتوں اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ایک اہم موقع بھی ہے۔میں تمام متعلقہ فریقین بشمول حکومتی اداروں، صوبائی حکام، مقامی کمیونٹیز اور نوجوانوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ مل کر ہمارے ثقافتی ورثے کے تحفظ، بقا اور فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔