جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کا ڈینگی اور پولیو کے خلاف مشترکہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کا ڈینگی اور پولیو کے خلاف مشترکہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر ڈینگی اور پولیو کے خلاف مشترکہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں سرحدی علاقوں میں ڈینگی لاروا کے خاتمے اور پولیو کے مکمل انسداد کے لئے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ نے کی۔ اجلاس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سینئر افسران نے شرکت کی جن میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام شامل تھے۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ایمرجنسی اینڈ ریسپانس کمیٹی اور ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو انسداد پولیو مہم کی تیاریوں اور قبل از مہم سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی جبکہ ڈینگی کے خلاف جاری اقدامات، اندرونی و بیرونی نگرانی اور فیلڈ سرگرمیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جڑواں شہروں کی انتظامیہ ایک مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت ڈینگی اور پولیو کے خلاف مہم چلائے گی تاکہ کوئی بھی علاقہ یا گھر اس مہم سے محروم نہ رہے۔ اس حوالے سے سروس اسٹیشنز، ٹائر شاپس اور دیگر ایسے مقامات جہاں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، کی سخت نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ڈینگی لاروا کے خاتمے کے لئے بلا تعطل اور بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں جبکہ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بھی آگاہی مہم میں شامل کیا جائے تاکہ عوامی شعور کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اپنے اپنے علاقوں میں عوامی نمائندوں سے رابطہ رکھیں اور انہیں جاری سرگرمیوں سے باخبر رکھیں تاکہ کمیونٹی کی سطح پر بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ رواں سال ڈینگی اور پولیو کے خلاف مہم کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔واضح رہے کہ ماضی میں جڑواں شہروں کے سرحدی علاقوں میں انتظامی حدود کے مسائل کے باعث کئی علاقے نظر انداز ہو جاتے تھے، جس کے نتیجے میں ڈینگی کے مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آتی رہی جبکہ پولیو مہم کے دوران بھی کئی بچے قطرے پینے سے رہ جاتے تھے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے ہدایت کی ہے کہ سرحدی علاقوں کے لئےمشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں تاکہ ہر بچے تک پولیو سے بچائو کے قطرے پہنچائے جا سکیں اور ڈینگی کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔