خوراک کا ضیاع سنگین مسئلہ، کمی کے لیے مربوط اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں، صدرآصف علی زرداری

خوراک کا ضیاع سنگین مسئلہ، کمی کے لیے مربوط اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں، صدرآصف علی زرداری

اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خوراک کے ضیاع میں کمی کے لیے مربوط اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور محدود گھریلو آمدنی کے تناظر میں خوراک کے ضیاع میں کمی براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے،زرعی معیشت ہوتے ہوئے پاکستان کو کھیت سے منڈی تک ہونے والے نقصانات پر خصوصی توجہ دینی چاہیئے۔اتوار کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے عالمی یومِ زیرو ویسٹ کے موقع پر جاری پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ خوراک کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ ہے اس میں کمی کے لیے مربوط اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سال عالمی یومِ زیرو ویسٹ خوراک کے ضیاع کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے، جو ایک ایسے چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے جس کے پاکستان سمیت پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خوراک کے ضیاع اور نقصان میں کمی کو پیداوار، رسد ذخیرہ اور استعمال کے ہر مرحلے پر ترجیح دی جانی چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے خاندانوں کے لیے خوراک کا ضیاع ایک عملی مسئلہ ہے، جہاں منڈی تک پہنچنے سے پہلے خراب ہونے والی اشیاء، ناکافی ذخیرہ کے انتظامات ، متاثرہ فصلیں اور تقریبات کے بعد ضائع ہونے والی بڑی مقدار میں پکی ہوئی خوراک وسائل کے غیر مؤثر استعمال کی مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور محدود گھریلو آمدنی کے تناظر میں خوراک کے ضیاع میں کمی براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضائع ہونے والی خوراک دراصل پانی، زمین، توانائی اور محنت جیسے قیمتی وسائل کا بھی نقصان ہے ، کچرے میں جانے والی خوراک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کر کے ماحولیاتی دباؤ بڑھاتی ہے، جس کا تعلق موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ جیسے بڑے چیلنجز سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک زرعی معیشت ہوتے ہوئے پاکستان کو کھیت سے منڈی تک ہونے والے نقصانات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے خوراک کو مؤثر طریقے سے ذخیرہ کرنے اور مضبوط کولڈ چین نظام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے خوراک کے ضیاع میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ منڈیاں، مقامی انتظامیہ اور فلاحی ادارے باہمی تعاون سے خوراک کو ضائع ہونے سے بچا کر مستحق افراد تک پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری ادارے عملی مثال قائم کریں جبکہ خوراک سے وابستہ کاروباری ادارے بہتر منصوبہ بندی اور ذمہ دارانہ ترسیل کے ذریعے ضیاع کم کریں۔صدرِ مملکت نے کہا کہ گھریلو سطح پر بھی ضرورت کے مطابق خریداری، مناسب ذخیرہ اور تیار ہوئی خوراک کا مکمل استعمال کر کے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خوراک کے ضیاع میں کمی ایک مسلسل اور مشترکہ کاوش ہے، جس کے لیے کھیتوں، منڈیوں، اداروں اور گھروں کی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے ساتھ ذمہ داری اور احترام کا رویہ اپنانے سے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، وسائل کے بہتر استعمال اور ماحول کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔