کوئٹہ۔ 17 مئی (اے پی پی):ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے کہا ہے کہ پیر (18 مئی)سے بلوچستان کے 25 اضلاع میں سات روزہ انسدادِ پولیو ویکسینیشن مہم شروع کی جائے گی جس کا ہدف 5 سال سے کم عمر کے 19 لاکھ 91 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔انعام الحق نے کہا کہ یہ مہم اس وقت شروع کی جا رہی ہے جب مختلف 8 مقامات سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبے میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پایا جانے والا وائرس صوبے کے اندر سے نہیں بلکہ ہمسایہ صوبوں اور افغانستان سے پھیل رہا ہے۔محکمہ صحت کے حکام نے زور دیا ہے کہ بروقت ویکسینیشن بچوں کو اس مفلوج کرنے والی بیماری سے بچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ کوآرڈینیٹر کے مطابق ویکسینیشن مہم جن اضلاع میں چلائی جائے گی ان میں بارکھان، برشور، چمن، ڈیرہ بگٹی، اپر ڈیرہ بگٹی، دکی، حب، جعفرآباد، جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، کچھی، قلات، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، مستونگ، موسیٰ خیل، نوشکی، نصیرآباد، پشین، کوئٹہ، شیرانی، سبی، صحبت پور، اوستہ محمد اور ژوب شامل ہیں۔کل 7,699 پولیو ٹیمیں 25 اضلاع میں تعینات کی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں تک رسائی یقینی بنائی جا سکے، ان میں 479 فکسڈ اور 335 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ انعام الحق نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو خطرناک بیماری ہے جو بچوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2026 میں بلوچستان سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ باقی پاکستان میں 3 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پولیو کسی بھی وقت بچوں کو متاثر کر سکتا ہے اور یہ وائرس اب بھی سنگین خطرہ ہے اسی لیے یہ مہم انتہائی اہم ہے، والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے روٹین امیونائزیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں کیونکہ یہ 12 جان لیوا بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس مہم کی کامیابی عوام کے تعاون پر منحصر ہے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، اساتذہ، میڈیا اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ آگاہی پھیلانے میں فعال کردار ادا کریں اور والدین کو بچوں کی ویکسینیشن کے لیے ترغیب دیں۔ای او سی بلوچستان نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے کیونکہ ایک بھی غیر ویکسینیٹڈ بچہ وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔