6 ماہ میں 10 لاکھ 30 ہزار سے زائد مقدمات نمٹا دیئے گئے، این جے پی ایم سی اجلاس میں تیز تر انصاف پر زور

6 ماہ میں 10 لاکھ 30 ہزار سے زائد مقدمات نمٹا دیئے گئے، این جے پی ایم سی اجلاس میں تیز تر انصاف پر زور

اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے 59ویں اجلاس میں بتایا گیا کہ ستمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران تقریباً 12 لاکھ 20 ہزار زیر التواء مقدمات میں سے 10 لاکھ 30 ہزار سے زائد نمٹا دیئے گئے جبکہ باقی کیسز کے جلد از جلد تصفیے کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، اٹارنی جنرل آفس پاکستان کے نمائندے اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ایک مؤثر، جوابدہ اور جدید عدالتی نظام کے قیام کے عزم کو دہرایا۔

جبری گمشدگیوں کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے ایک سابق سپریم کورٹ جج کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ہائی کورٹس میں غیر ملکی ثالثی ایوارڈز، ٹیرف اور اینٹی ڈمپنگ قوانین سے متعلق مقدمات کے لئے خصوصی بنچز کے قیام پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس تخصص سے فیصلوں میں یکسانیت اور کاروباری ماحول میں بہتری آئے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ نے بالترتیب 92 اور 88 فیصد مقدمات نمٹانے کی شرح حاصل کی جبکہ سندھ، پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹس میں وراثتی مقدمات کا دیرینہ بیک لاگ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، صرف لاہور ہائی کورٹ میں چند کیسز باقی رہ گئے ہیں۔ماڈل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ رپورٹنگ مدت کے دوران 8 ہزار 400 سے زائد دیوانی اور 14 ہزار 800 سے زائد فوجداری مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ رفتار کے ساتھ ساتھ معیار کو یقینی بنانے کے لئے ڈیٹا پر مبنی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

غیر ضروری مقدمات کی حوصلہ شکنی کے لیے قانونی و پالیسی فریم ورک کی تیاری جاری ہے جبکہ بار کونسلز سمیت متعلقہ فریقین سے مشاورت بڑھانے پر زور دیا گیا۔اجلاس میں جیل اصلاحات ایکشن پلان کا بھی جائزہ لیا گیا جس کا مقصد پاکستان کے جیل نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں جون 2026 میں قومی کانفرنس منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی۔کمیٹی نے ’’جینڈر فیئر لینگویج فریم ورک 2026‘‘ کی منظوری دیتے ہوئے اسے عدالتوں اور متعلقہ اداروں میں متعارف کرانے اور اردو میں ترجمہ کرنے کی ہدایت کی۔

اسی طرح ’’جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو 2026-27‘‘ کی بھی توثیق کی گئی جس کے تحت خواتین سہولت مراکز قائم کئے جائیں گے جہاں مفت قانونی معاونت، مصالحتی خدمات اور خاندانی معاونت فراہم کی جائے گی۔اجلاس میں نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کے گورننس فریم ورک کی منظوری دی گئی تاکہ عدالتی نظام میں ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کو فروغ دیا جا سکے جبکہ ہائی کورٹس کو ای-آفس سسٹم متعارف کرانے کی بھی ترغیب دی گئی۔عوامی سہولت کے لئے ضلعی عدالتوں میں بچوں سے ملاقات کے مراکز کو سرکاری تعطیلات میں بھی کھلا رکھنے کی منظوری دی گئی۔اجلاس کے اختتام پر عدلیہ، اٹارنی جنرل آفس اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے عدالتی نظام میں بہتری اور عوامی اعتماد کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔