اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ گورننس، شفافیت، ٹیکنالوجی کا انضمام اور پالیسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا حکومت کی اصلاحاتی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی)کے صدر زو جیائی کی سربراہی میں وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے موسم بہار اجلاسوں کے دوران زو جیائی سے ہونے والی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیا اور پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اقتصادی اصلاحات اور طویل المدت ترقیاتی مالی معاونت کے لیے بینک کی مسلسل شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے پانڈا بانڈ کے کامیاب اجراء میں بینک کی ضمانتی معاونت پر بینک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیاب مالیاتی ڈیل پاکستان کی معاشی سمت اور اصلاحاتی عمل پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
بینک کی صدر نے حکومت پاکستان کو پانڈا بانڈ کے کامیاب اجراء پر مبارکباد دی اور کہا کہ اس اجراء نے یہ ثابت کیا ہے کہ کثیرالجہتی ترقیاتی ادارے رکن ممالک کی مالی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور متنوع مالیاتی ذرائع تک رسائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس مالیاتی معاملے پر سرمایہ کاروں کے مضبوط ردعمل اور سازگار قیمتوں کے تعین کو بھی سراہا۔ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ استحکام کے اقدامات اور جاریڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مہنگائی، بیرونی شعبے کے استحکام، مالیاتی نظم و نسق اور مارکیٹ کے اعتماد میں مثبت رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے برآمدات پر مبنی، پیداواری صلاحیت سے جڑی اور جامع اقتصادی ترقی کی جانب پیش رفت جاری رکھے گی۔
اجلاس میں پاکستان کے موجودہ اور آئندہ سرمایہ کاری پورٹ فولیو پر تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں بالخصوص انفراسٹرکچر پر مبنی ترقی اور طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بندی پر توجہ دی گئی۔فریقین نے ٹرانسپورٹ رابطہ کاری، توانائی کی منتقلی، آبی وسائل کے انتظام، شہری انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف سٹریٹجک شعبوں میں جاری اور مجوزہ سرمایہ کاری کا جائزہ لیا ۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دینے، معاشی مسابقت میں اضافہ کرنے اور پائیدار ترقی کوآگے بڑھانے والے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔اجلاس میں پاکستان اور بینک کے درمیان سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قومی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ایک منظم کثیر سالہ مالیاتی فریم ورک پر بھی غور کیا گیا۔ گفتگو میں منصوبہ بندی، عملدرآمد کی تیاری، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور طویل المدتی ترقیاتی مالی وسائل کے حصول میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔شرکا نے جدید مالیاتی ذرائع اور نجی شعبے کی وسیع تر شمولیت کے ذریعے پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول کو وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی کیپٹل مارکیٹس کی ترقی، مالیاتی ذرائع میں تنوع، قرضہ اور ایکویٹی مارکیٹس کو مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے فروغ سے انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گیبینککے وفد نے پاکستان میں بینک کی جاری سرگرمیوں کا جائزہ بھی پیش کیا اور ملک کی طویل المدت ترقیاتی ترجیحات کے تناظر میں مزید تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔ اس دوران انفراسٹرکچر، توانائی کے شعبے کی ترقی، موسمیاتی پالیسی سے متعلق مالی معاونت اور ہنگامی مالیاتی سہولیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
وزیر خزانہ نے وفد کو حکومت کے وسیع تر اصلاحات کے ایجنڈے سے بھی آگاہ کیا جس میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، سرکاری اداروں کی اصلاحات، ادارہ جاتی جدیدکاری اور وزارتوں و سرکاری اداروں میں عملدرآمد کی صلاحیت بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گورننس، شفافیت، ٹیکنالوجی کے انضمام اور پالیسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا حکومت کی اصلاحاتی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔ وزیر خزانہ نے ایک مرتبہ پھر حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا، اصلاحات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ایک مستحکم، شفاف، اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ پائیدار معاشی ترقی اور طویل المدتی ترقیاتی شراکت داریوں کو فروغ دیا جا سکے۔