گورنر خیبر پختونخوا سے کورین پاور کمپنی کے وفد کی ملاقات ،جاری اور مجوزہ پن بجلی منصوبوں بارے تبادلہ خیال کیا

گورنر خیبر پختونخوا سے کورین پاور کمپنی کے وفد کی ملاقات ،جاری اور مجوزہ پن بجلی منصوبوں بارے تبادلہ خیال کیا

اسلام آباد۔13مئی (اے پی پی):کورین ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی لمیٹڈ کے اعلیٰ سطحی وفد نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی جس دوران پاکستان میں جاری اور مجوزہ پن بجلی منصوبوں بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق وفد نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔

وفد نے بتایا کہ کورین ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی لمیٹڈ 2011 سے پاکستان میں سرگرم ہے اور 102 میگاواٹ گُلپور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کامیابی سے مکمل کرچکی ہے، مزید دو بڑے منصوبے 238 میگاواٹ کالام اسریت اور 229.4 میگاواٹ اسریت کیدم پر کام جاری ہے۔ وفد نے گورنر کو آگاہ کیا کہ ان منصوبوں کے لیے تمام اہم مراحل مکمل کیے جاچکے ہیں جن میں فزیبلٹی سٹڈیز، ماحولیاتی منظوری، ارسا اجازت، گرڈ انٹیگریشن اور مالیاتی انتظامات شامل ہیں، تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بندوبست ہوچکا ہے جبکہ 25 ملین ڈالر سے زائد رقم پہلے ہی خرچ کی جاچکی ہے۔

اس موقع پر وفد نے بعض اہم مسائل بھی اجاگر کیے جن میں سب سے بڑا مسئلہ ٹیرف کی منظوری میں غیر معمولی تاخیر ہے۔ وفد کے مطابق نیپرا کے قواعد کے مطابق ٹیرف کا فیصلہ 4 سے 6 ماہ میں ہونا چاہیے، تاہم تین سال گزرنے کے باوجود حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ وفد نے بتایا کہ نئے IGCEP 2025-35 ڈرافٹ میں ان کے منصوبوں کو غیر ضروری طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے جس سے نہ صرف نجی شعبے کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہوگا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ وفاقی اداروں کے ساتھ اٹھائیں گے تاکہ سرمایہ کاروں کے تحفظ اور توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے اور ایسے منصوبے ملک کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ملاقات میں چیئرمین طارق اکبر مہمند ، چیف ایگزیکٹو آفیسر کم من یانگ ، ڈپٹی چیف ایگزیکٹو جینگ سنگکو اور چیف آپریٹنگ آفیسر جاوید رشید چوہدری شامل تھے۔