کنٹریکٹ ملازمین سنیارٹی کے حق دار نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

کنٹریکٹ ملازمین سنیارٹی کے حق دار نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

اسلام آباد۔22مئی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سنیارٹی کا حق صرف مستقل اور ریگولر ملازمین کو حاصل ہوتا ہےجبکہ کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو واضح قانونی ضوابط کے بغیر سنیارٹی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کنٹریکٹ ملازمین اور مستقل ملازمین کی تقرری و سروس اسٹرکچر ایک جیسا نہیں ہو سکتا، اس لیے کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر ملازمین کے برابر تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی ملازم کی سنیارٹی کا آغاز اس کی ریگولرائزیشن کی تاریخ سے ہوگا اور ریگولر ہونے سے قبل کی سروس کو ریگولر کیڈر کا حصہ شمار نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (ایس ای ایس ایس آئی ) سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ادارے کو ساٹھ روز کے اندر نئی سنیارٹی فہرست مرتب کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ واضح قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی میں کنٹریکٹ ملازمین کو سنیارٹی میں شامل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں مستقل ملازمین کے مساوی حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کنٹریکٹ ملازم سنیارٹی میں حق نہیں رکھتا اور سنیارٹی صرف ریگولرائزیشن کے بعد ہی شمار ہوگی۔وفاقی آئینی عدالت نے ڈائریکٹر نادر حسین کے ماضی سے ریگولرائزیشن اور سنیارٹی سے متعلق جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز بھی کالعدم قرار دے دیے۔20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا۔