اسلام آباد۔15اپریل (اے پی پی):او آئی سی کامسٹیک اسلام آباد اور اور ہواوے ٹیکنالوجیز پاکستان کے درمیان او آئی سی کے رکن ممالک میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے ایک معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت مشترکہ معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی اکیڈمی قائم کی جائے گی۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر بدھ کو کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں دستخط کئے گئے ، اس موقع پر جدید سہولیات سے آراستہ ایک تربیتی مرکز کا بھی افتتاح کیا گیا۔ یہ مرکز جدید ڈیجیٹل نظام سے لیس ہے جہاں آن لائن تدریس، عملی تربیت اور مختلف ممالک کے طلبہ و ماہرین کے درمیان فوری رابطہ اور اشتراک ممکن بنایا گیا ہے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل (ر)حفیظ الرحمان تھے ۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک کو ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا،چیلنجز اور مواقع کے تناظر میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جاتا ہے اور انہی کی بنیاد پر پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اور او آئی سی سطح پر مختلف حکمت عملیوں کے تحت کام کرنا ضروری ہوتا ہے، ماضی میں فائبر نظام کے لئے بھاری اخراجات درکار تھے جبکہ پاکستان نے اس حوالے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں مختلف طریقہ کار اختیار کیا، مسائل کا جائزہ لے کر اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ان کا حل نکالا گیا۔ کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ یہ معاہدہ او آئی سی خطے میں ڈیجیٹل خود کفالت کے حصول کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نوجوانوں کو جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا جس سے سائنسی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
ہواوے ٹیکنالوجیز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایتھا سن نے کہا کہ ان کا ادارہ نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے اور یہ شراکت داری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان دنیا میں آزادانہ خدمات فراہم کرنے والوں کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہے اور او آئی سی ممالک کو مشترکہ طور پر اپنی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی مواصلاتی تحفظ کے شعبے میں پاکستان دیگر ممالک کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنقیدی سوچ کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے تاکہ درست فیصلے کئے جا سکیں۔اس شراکت داری کے تحت قائم ہونے والی اکیڈمی میں نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی جس سے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفرا نے شرکت کی جن میں ملائشیا، صومالیہ، موریشس، آذربائیجان، مراکش ، الجزائر اور برونائی دارالسلام، شامل تھے۔ شرکا کو نئے تربیتی مرکز کا دورہ کرایا گیا جہاں جدید تعلیمی نظام اور تربیتی طریقہ کار کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔