چین کے شہر شین ژین میں ورلڈ ڈرون کانگریس 2026 ءمیں پاکستان کے لیے ’’کنٹری آف آنر‘‘ کا اعزاز

چین کے شہر شین ژین میں ورلڈ ڈرون کانگریس 2026 ءمیں پاکستان کے لیے ’’کنٹری آف آنر‘‘ کا اعزاز

اسلام آباد۔22مئی (اے پی پی):وزیرِ مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ پاکستان کیلئے کنٹری آف آنرز کا اعزاز ڈیجیٹل اور تکنیکی شعبوں میں عالمی اعتماد اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کا مظہر ہے، ڈرون ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن ، بلاک چین کا امتزاج لاجسٹکس اور سپلائی چین کو تبدیل کر رہا ہے۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے 10ویں ورلڈ ڈرون کانگریس میں شرکت کے موقع پر کیا۔ورلڈ ڈرون کانگریس میں 120 سے زائد ممالک نے شرکت کی جہاں پاکستان توجہ کا مرکز بن گیا،بلال بن ثاقب نے ڈرونز، بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ جات کا وژن پیش کیا۔بلال بن ثاقب نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ ڈرون کانگریس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ’’کنٹری آف آنر‘‘ نامزد کرنے پر ورلڈ ڈرون کانگریس کے منتظمین کے شکر گزار ہیں، پاکستان کیلئے یہ اعزاز ڈیجیٹل اور تکنیکی شعبوں میں عالمی اعتماد اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کا مظہر ہے، ڈرون ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن ، بلاک چین کا امتزاج لاجسٹکس اور سپلائی چین کو تبدیل کر رہا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ بلاک چین کے استعمال سے ڈرون آپریشنز مزید محفوظ، شفاف اور مؤثر بن سکتے ہیں،ڈرونز اور بلاک چین کا اشتراک اسمارٹ سٹیز، صنعتی نگرانی اور ایمرجنسی رسپانس کیلئے نئی راہیں کھول رہا ہے۔بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی معاونت فراہم کر رہا ہے،ورلڈ ڈرون کانگریس ڈرونز اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں عالمی تعاون کو نئی جہت دے رہی ہے۔بلال بن ثاقب نے کہا کہ تکنیکی جدت، ریگولیٹری ہم آہنگی اور صنعتی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان ڈیجیٹل اکانومی اور ورچوئل ایسٹس ریگولیشنز میں پیش رفت پر گامزن ہے۔بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈرون انڈسٹری میں جدت اور عالمی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے،پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے۔