چینی صدر کے 4 نکاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، امن اورکاروبار کی بحالی کےلئے مل کر کام کرنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف کا بیجنگ میں استقبالیہ تقریب سے خطاب

چینی صدر کے 4 نکاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، امن اورکاروبار کی بحالی کےلئے مل کر کام کرنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف کا بیجنگ میں استقبالیہ تقریب سے خطاب

بیجنگ۔25مئی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن کےلئے چین کے صدر شی جنگ پنگ کے 4 نکاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نازک مرحلے سے گز ر رہی ہے ، امن اورکاروبار کی بحالی کےلئے مل کر کام کرنا ہوگا، چین نے پاکستان کی امن اور جنگ بند ی کےلئے کوششوں کی بھرپور حمایت کی ، معاملات درست سمت میں آگےبڑھ رہے ہیں۔وہ پیرکو یہاں اپنے اعزاز میں عظیم عوامی ہال میں منعقدہ پروقار استقبالیہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر چین کے وزیراعظم لی چیانگ،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار،چیف آف آرمی سٹاف ، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اورپاکستان اور چین کے وزرا اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے دورے کی پرتپاک دعوت پر چینی وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آ پ کے عظیم ملک کا دورہ کرنا میرے لئے ہمیشہ بے حد خوشی کا باعث ہوتا ہے،جب بھی چین آتے ہیں ہمیں نئی تعمیرات اور عظیم ترقی دیکھنے کو ملتی ہے۔

انہوں نے چین کے برادر عوام سے صوبہ شانشی کی کوئلے کی کان میں دھماکے پر تعزیت کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں قیمتیں جانیں ضائع ہوئیں اور کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑے ہیں،پاکستان اور چین اپنی شاندار دوستی اور سفارتی تعلقات کا 75واں سال منا رہے ہیں،پاکستان چین دوستی کی بنیاد ہمارے بانیان نے رکھی تھی، انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوط بنیاد اور مستحکم عمارت قائم کی،اب ہم اس ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں اوردوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے سفر پر گامزن ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا ایک انتہائی ناز ک دور سے گزر رہی ہے،خلیج میں بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مخلصانہ کردار ادا کیا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ابھی تہران سے یہاں پہنچے ہیں ، وہ مسلسل سفر میں رہے ہیں ، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکا، ایران اور خلیج کے ممالک سمیت سب سے رابطے کئے ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امن کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں بہت سا کام ہوچکا ہے اورمعاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ انہو ں نے پاکستان کی امن کےلئے کوششوں کی بھرپور حمایت اورجنگ بندی کےلئے چین کے صدر شی جنگ پنگ اورچینی قیادت کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے صدر شی جنگ پنگ کے 4 نکاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ملاقات میں بھی انہوں نے 5 نکاتی حمایتی پروگرام کا اعلان کیا تھا، جنگ بندی کےلئے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ دنیا میں امن قائم اور کاروبار بحال ہو، اس بحران نے نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ پاکستان جو تیل اور تیل کی مصنوعات کا خالص درآمد کنند ہ ہے سمیت عالمی برادری کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے اس موقع پرکہا کہ چین پاکستان کے ساتھ ملکرکام کرنے کےلئے پرعزم ہے،پاکستان نے قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھا ہے اورمشترکہ مفادات کا تحفظ کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے علاقائی امن کےلئے مثبت کردا ر کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی آج وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات ہوگی،یہ ملاقات دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کےلئے سٹرٹیجک رہنمائی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ روایتی دوستی کو آگے بڑھانے اور دو طرفہ تعاون کے فروغ کےلئے پرعزم ہے،ہم پاکستان کے ساتھ عملی تعاون کو وسعت دینے اورباہمی دلچسپی کے تمام امور پر بات چیت کےلئے تیار ہیں۔قبل ازیں چین کی وزیراعظم لی چیانگ نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا عظیم عوامی ہال آمد پر پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پردونوں رہنمائوں نے گرمجوشی سے مصافحہ اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستانی وفد جبکہ چین کے وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے ارکان کا وزیراعظم محمد شہباز شریف سے تعارف کرایا۔ اس موقع پردونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے اور وزیراعظم کو چین کی مسلح افواج کے چاق وچوبند دستوں کی طرف سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا جس کے بعد دونوں رہنمائوں کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔