چیئر مین این ڈی ایم اے کی متعلقہ اداروں کو مربوط اور فعال تیاریوں، فوری رسپانس اور مسلسل رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت

چیئر مین این ڈی ایم اے کی متعلقہ اداروں کو مربوط اور فعال تیاریوں، فوری رسپانس اور مسلسل رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت

اسلام آباد۔13مئی (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے )کے چیئر مین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بروقت الرٹس اور عوامی آگاہی کو جانی و مالی تحفظ کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئےتمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور فعال تیاریوں، فوری رسپانس اور مسلسل رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ بدھ کواین ڈی ایم اےمیڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق قومی و عسکری قیادت کی ہدایات پر این ڈی ایم اے نے قومی مون سون کانفرنس کا انعقاد کیا۔کانفرنس کا مقصد مون سون سیزن 2026 کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے قبل از وقت تیاری کو یقینی بنانا تھا۔ این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں مون سون سیزن کیلئے قومی تیاریوں اور اداروں کے مابین رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔

این ای او سی کی جانب سے جاری ابتدائی ڈیزاسٹر ارلی وارننگ (DEW-3) کے تناظر میں متعدد خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔جون تا ستمبر کے دوران گرمی کی شدید لہر، سیلاب،گلیشیائی جھیلوں کے سیلاب،شہروں میں سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کا شدید خدشہ ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بروقت الرٹس اور عوامی آگاہی کو جانی و مالی تحفظ کیلئے ناگزیر قرار دے دیا۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور فعال تیاریوں، فوری رسپانس اور مسلسل رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔این ای او سی کے مطابق 2026 کا مون سون ملک میں غیر متوازن بارشوں کا سبب بن سکتا ہے، شمالی علاقوں میں زیادہ جبکہ میدانی اور جنوبی علاقوں میں کم بارشوں کا امکان ہے۔

ابتدائی مون سون آمد کے باوجود جنوبی اور میدانی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت اورگرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔شمالی پاکستان میں شدید بارشوں، مغربی ہوائوں، تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، جھیلوں کے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے بیک وقت خطرات کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے حساس علاقوں میں پیشگی تیاریوں، بروقت الرٹس اور فوری رسپانس میکنزم کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کر دی۔مقامی فلاحی اداروں،مقامی رضاکاروں اور سول سوسائٹی کو ضلعی اور مقامی سطح پر فعال بنانے پر زور،مقامی سطح پر تیاریوں کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

کانفرنس میں ریسکیو آلات، مشینری، سامان کی بروقت ترسیل، ایمرجنسی وسائل اور ریلیف سٹاک کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریلیف کیمپس، انخلاء منصوبہ بندی، رابطہ نظام اور حساس علاقوں میں پیشگی اقدامات پر مشاورت کی گئی۔شمالی علاقوں میں سیاحوں کی حفاظت، اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ اور عوامی آگاہی مہمات کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔پی ڈی ایم ایز، پی ایم ڈی، این ایچ اے، واپڈا، مسلح افواج، ریسکیو سروسز اور دیگر اداروں نے مربوط قومی حکمت عملی کے تحت مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔