چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس

اسلام آباد۔13مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے مجوزہ قانونی تحفظات اور مالیاتی اداروں و ان کے افسران کو دی جانے والی وسیع رعایتوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیک نیتی کے نام پر مکمل استثنیٰ دینے والی ایسی ’’روایتی شقیں‘‘ قانون سازی کا معمول نہیں بننی چاہئیں۔ چیئرمین نے زور دیا کہ قانونی تحفظات یا تو دونوں فریقوں کو یکساں طور پر حاصل ہونے چاہئیں یا پھر یکطرفہ انداز میں نہیں دیئے جانے چاہئیں۔وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جہاں ’’مالیاتی ادارے (ریکوری آف فنانس) ترمیمی ایکٹ 2026‘‘ میں مجوزہ ترامیم کا شق وار تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں خاص طور پر ہاؤسنگ فنانس اور قرقی کے طریقہ کار سے متعلق نئی شامل کی گئی دفعہ -15A پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران ہاؤسنگ فنانس کے تحت مجوزہ قرقی کے طریقہ کار پر تفصیلی بحث ہوئی۔ کمیٹی اراکین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر یہ قانونی فریم ورک نافذ کیا گیا تو یہ قرض لینے والوں اور عام شہریوں کے لئے غیر متناسب طور پر سخت اور بوجھل ثابت ہو سکتا ہے۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ اگرچہ مالیاتی اداروں کو نادہندہ قرضوں کی وصولی کے لئے قانونی طریقہ کار درکار ہے تاہم قانون سازی میں توازن، انصاف اور قرض لینے والوں کے لئے مناسب تحفظات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہئے۔

اراکین نے اختیارات کے غلط استعمال اور من مانے قرقی اقدامات کی روک تھام کے لئے مؤثر قانونی چارہ جوئی اور اپیل کے تحفظات کی ضرورت پر زور دیا۔بحث کے دوران اراکین نے اداروں کو وسیع اختیارات دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا جہاں جوابدہی کے مؤثر نظام موجود نہیں ہوتے۔ کمیٹی نے متعلقہ وزارت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی متفقہ ترامیم اور مشاہدات کو نظرِثانی شدہ مسودے میں شامل کر کے دوبارہ غور کے لئے پیش کیا جائے۔

کمیٹی نے 7 مئی 2026 کو ہونے والے اپنے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی بھی منظوری دے دی۔اجلاس میں ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم، ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون و انصاف، فنانس ڈویژن اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔