اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بیلجیئن شاہی وفد کا پرتپاک استقبال کیا جس میں ہز ہائنس پرنس ایڈورڈ ڈی لائن لا ٹریموئیل اور ہر ہائنس شہزادی ازابیلا اورسینی ڈی لائن لا ٹریموئیل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں جانب سے خوشگوار ماحول میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارتکاری، علاقائی صورتحال اور پاکستان و بیلجیئم کے درمیان تعاون کے فروغ کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کی پارلیمنٹ اور عوام کی جانب سے بیلجیئم کے عوام کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ معزز بیلجیئن وفد کا دورہ پاکستان اور بیلجیئم کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی خیرسگالی اور عوامی روابط کے فروغ کا مظہر ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان بیلجیئم کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اسے یورپ میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان-بیلجیئم تعلقات باہمی احترام، جمہوری اقدار اور دوطرفہ و کثیرالجہتی فورمز پر تعمیری تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی اداروں کے میزبان ملک کی حیثیت سے بیلجیئم پاکستان کے یورپ کے ساتھ روابط کے لیے ایک اہم دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حوالے سے بیلجیئم کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی تعاون کو فروغ ملا ہے۔پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان دنیا بھر کے پارلیمانی اداروں کے ساتھ مکالمے اور تعاون کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمنٹیرینز اور اداروں کے درمیان روابط میں اضافہ باہمی افہام و تفہیم کو مزید مضبوط بنانے اور جمہوری طرز حکمرانی و پالیسی سازی کے تجربات کے تبادلے میں معاون ثابت ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے بین الاقوامی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جس کا آغاز ان کی قیادت میں اپریل 2025ء میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس فورم کو پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے عالمی امن، تعاون اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے نومبر 2025ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پہلی آئی ایس سی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں 39 ممالک کے پارلیمانی وفود نے شرکت کی جس سے یہ عالمی امن اور ترقیاتی چیلنجز پر مکالمے کا ایک اہم فورم بن گیا۔ انہوں نے مستقبل میں اس کانفرنس میں بیلجیئم کی فعال شرکت کی امید بھی ظاہر کی۔
معاشی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بیلجیئم یورپ میں پاکستان کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے اور پاکستانی برآمدات کے لیے ایک بڑے تجارتی و لاجسٹک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات پر مبنی سفارتکاری اور علاقائی استحکام کے حق میں پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اپریل 2026ء میں ہونے والا حالیہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ برس جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تاہم پاکستان نے ذمہ داری، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت اور بہادری کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
بیلجیئن شہزادے اور شہزادی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا شاندار استقبال پر شکریہ ادا کیا اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک عالمی امن کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں وسیع عالمی تنازعات کو روکنے اور بین الاقوامی استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔ملاقات کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے معزز بیلجیئن وفد کا دورہ پاکستان پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بیلجیئم کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط، معاشی تعاون اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بیلجیئم کے عوام کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ناصر عباس، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر منظور احمد کا کڑ، سینیٹر جان محمد، سینیٹر رانا ثناء اللہ، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر سید علی ظفر، سینیٹر فیصل جاوید اور ایوان بالا کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔