پی ٹی آئی کے قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے پیچھے نظریاتی نہیں، اندرونی اختلافات ہیں،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

پی ٹی آئی کے قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے پیچھے نظریاتی نہیں، اندرونی اختلافات ہیں،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں سے علیحدگی کسی نظریاتی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ پارٹی کے اندر چیئرمین شپ، خصوصاً پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کے معاملے پر اختلافات کا شاخسانہ ہے۔

اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے اس فیصلے کو میڈیا میں اصولی اور نظریاتی مؤقف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تاہم اصل معاملہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی تقرری، بالخصوص پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر خان کے حوالے سےاندرونی اختلافات تھے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے بعد اپوزیشن اراکین اب کسی پارلیمانی عہدے پر موجود نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کےاجلاسوں کے بائیکاٹ کے ذریعے اپوزیشن نے خود کو بجٹ سازی کے عمل سے الگ کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹیوں سے علیحدگی کا پہلا مرحلہ ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن پارلیمان کے اندر کیا طرزِ عمل اختیار کرتی ہے۔

وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کو پارلیمان میں واپس آکر مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں سے قبل اپوزیشن اراکین نے بجٹ سے متعلق اجلاسوں میں تعمیری کردار ادا کیا اور بجٹ امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بھی اپوزیشن کی تجاویز کو سنجیدگی اور مثبت انداز میں لیاجبکہ نوجوان پارلیمنٹیرینز اسامہ میلہ اور مبین عارف کی قائمہ کمیٹیوں میں مثبت کارکردگی کو بھی سراہا۔