پیشگی اجازت کے بغیر کوئی بھی اٹارنی (مختارِ عام) اپنے بیٹوں کے نام جائیداد منتقل نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

پیشگی اجازت کے بغیر کوئی بھی اٹارنی (مختارِ عام) اپنے بیٹوں کے نام جائیداد منتقل نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کوئی بھی اٹارنی (مختارِ عام) اپنے پرنسپل کی جائیداد اپنے بیٹوں یا قریبی رشتہ داروں کے نام منتقل نہیں کر سکتا جب تک اس کے لئے واضح، پیشگی اور تحریری اجازت موجود نہ ہو۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بنچ نے جاوید اقبال و دیگر بنام فرحت اقبال (مرحومہ) کیس میں سنایا جس میں لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی گئی۔مقدمہ چشتیاں کے علاقے میں تقریباً ایک کنال 19 مرلہ اراضی سے متعلق تھا جو فرحت اقبال کو اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔

انہوں نے خاندانی اعتماد کی بنیاد پر 2003 اور بعد ازاں 2005 میں ایک شخص کو پاور آف اٹارنی دی جس نے 2006 میں اسی اختیار کے تحت جائیداد اپنے بیٹوں کے نام منتقل کر دی۔بعد ازاں خاتون نے اس اقدام کو دھوکہ دہی اور اختیارات کا ناجائز استعمال قرار دیتے ہوئے پاور آف اٹارنی منسوخ کر دی اور 2009 میں عدالت سے رجوع کیا۔ٹرائل کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا جسے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے بھی بحال رکھا۔ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جسے مسترد کر دیا گیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جنرل پاور آف اٹارنی خود بخود جائیداد فروخت کرنے کا اختیار نہیں دیتی جب تک واضح شق موجود نہ ہو۔اگر اٹارنی جائیداد اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام منتقل کرے تو اس کے لئے پرنسپل کی پیشگی اجازت لازمی ہے۔ایسے معاملات میں عدالتیں خاص احتیاط برتتی ہیں کیونکہ اس میں اعتماد (fiduciary relationship) کا عنصر شامل ہوتا ہے۔محض چیک کے ذریعے ادائیگی کا دعویٰ کسی جائز خرید و فروخت کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی قابلِ اعتبار ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ اصل مالک نے اپنے بیٹوں کے نام جائیداد منتقلی کی اجازت دی تھی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ لین دین قانونی اصولوں اور اعتماد کے تقاضوں کے خلاف ہے، لہٰذا اپیل خارج کی جاتی ہے اور کوئی اخراجات عائد نہیں کئے جاتے۔