بیجنگ ۔17مئی (اے پی پی):پاکستان نے پہلی بار چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں پانڈا بانڈ جاری کرتے ہوئے 1.75 ارب رینمنبی حاصل کر لیے ہیں، جسے ماہرین پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔تین سالہ مدت کے اس بانڈ کی قیمت 14 مئی کو طے کی گئی جبکہ اس کا باضابطہ اعلان اگلے روز کیا گیا۔ بانڈ پر 2.5 فیصد منافع مقرر کیا گیاجو پاکستان کی جانب سے کسی خودمختار بانڈ پر حاصل کیا جانے والا اب تک کا کم ترین ریٹ ہے۔یہ پاکستان کا چین کی آن شور رینمنبی بانڈ مارکیٹ میں پہلا داخلہ ہے، جسے اسلام آباد کے لیے بیرونی مالی وسائل کے حصول میں ایک نئی اور نسبتاً کم لاگت متبادل راہ قرار دیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ معاہدہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ چین دنیا کی سب سے بڑی اور گہری سرمایہ مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے لیے سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسیع کرنے اور قرضوں کے ذرائع میں تنوع لانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر 7.2 ارب رینمنبی کے بانڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور موجودہ 1.75 ارب رینمنبی کا اجرا اس سلسلے کی پہلی قسط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگلی قسط کے اجرا کے لیے بھی جلد عمل شروع کرے گی۔اس بانڈ کے انتظامات ہونگا سکیورٹیز اور سٹینڈرڈ چارٹر بنک آف چائنہ ، چائنہ انٹرنیشنل کیپٹل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر کیے، جبکہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ واحد غیر ملکی بینک تھا جو مشترکہ لیڈ انڈر رائٹرز میں شامل رہا۔بانڈ کی ایک اہم خصوصیت اس کا کریڈٹ ڈھانچہ بھی ہے، جس کے تحت ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے اصل رقم اور منافع کے تقریباً 95 فیصد حصے کی جزوی ضمانت فراہم کی، جس سے بانڈ کو چین میں مقامی سطح پر ٹرپل اے ریٹنگ حاصل ہوئی ہے۔حاصل ہونے والی رقم پانی کے انتظام، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور صحت کے شعبے سمیت پائیدار ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، جس سے اس بانڈ کو ترقیاتی مالیات کا پہلو بھی حاصل ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کی پانڈا بانڈ مارکیٹ تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اس مارکیٹ میں 88.24 ارب رینمنبی کے بانڈز جاری کیے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے لیے سستے قرض کے حصول کا ذریعہ ہے بلکہ چین کی کرنسی رینمنبی کے عالمی مالیاتی کردار کو وسعت دینے کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر، مالیاتی صورتحال اور کرنسی مارکیٹ میں استحکام آ رہا ہے جبکہ افراط زر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چند سال قبل پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت میں رینمنبی کا حصہ صرف 4 سے 5 فیصد تھا جو اب بڑھ کر تقریباً 24 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز بینک آف چائنا کے ساتھ موجود کرنسی سویپ انتظامات نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں حکومتی منصوبوں کے بجائے کاروباری شراکت داریوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی، جن میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معدنیات اور کان کنی کے شعبے شامل ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایک واحد پانڈا بانڈ پاکستان کے قرضوں کے مجموعی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتا، تاہم یہ اقدام ڈالر پر انحصار میں بتدریج کمی، سرمایہ کاری کے نئے ذرائع کے حصول اور مالیاتی تنوع کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔