اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)نے پاکستان میں کام کرنے والے تمام سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کی کسٹمر سروس کے کارکردگی کےکلیدی پیمانے (کے پی آئیز) کا جائزہ لینے کے لئے ایک جامع سروے منعقد کیا ۔جمعرات کو پی ٹی اے سے جاری بیان کے مطابق اس سروے میں صارفین سے رابطے اور خدمات کی فراہمی کے اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جن میں ہیلپ لائن تک رسائی، آپریٹر معاونت کے لئے ردِعمل کا وقت، شکایات کے ازالے کا دورانیہ، مسائل کے حل کی کامیابی کی شرح اور ہنگامی خدمات تک رسائی شامل ہیں۔
یہ سروے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشنز 2009 کے مطابق انجام دیا گیا۔سروے کے نتائج کے مطابق صنعت میں قواعد کی پاسداری اور عدم پاسداری، دونوں دیکھنے میں آئے۔ خاص طور پر تمام سی ایم اوز یعنی جاز، ٹیلی نار پاکستان، یوفون، زونگ اور سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے کال سینٹر آپریٹر تک رسائی کے اوقات مقررہ حد سے زیادہ پائے گئے، جس کے باعث معاونت حاصل کرنے والے صارفین کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید یہ کہ سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن نے بلنگ کی درستگی اور متعلقہ شکایات سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں۔سروے کے دوران ایمرجنسی ہیلپ لائنز کی روٹنگ اور میپنگ میں بھی خامیاں سامنے آئیں۔ ان میں گلگت بلتستان میں چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن (1121) کالز کی غلط روٹنگ، جبکہ بعض آپریٹرز اور علاقوں میں ایدھی (115)، پاکستان ریلوے (117)، این ڈی ایم اے (911) اور چھیپا (1020) جیسی اہم سروسز کی مناسب میپنگ میں خامیاں شامل ہیں۔ ان خامیوں کے ازالے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کئے جائیں تاکہ صارفین کو بروقت، مؤثر اور قابلِ اعتماد خدمات فراہم کی جا سکیں۔
مثبت پیشرفت کے طور پر، گزشتہ سروے میں نشاندہی کیے گئے مسئلے کو کامیابی سے حل کر لیا گیا ہے جس کے تحت تمام آپریٹرز کے صارفین کے لیے پی ٹی اے کی ٹول فری ہیلپ لائن تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ اس کے علاوہ موجودہ رپورٹنگ مدت کے دوران بیشتر آپریٹرز کی جانب سے ری کنکشن وقت کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی اور انہوں نے مقررہ حدود کو پورا کیا۔پی ٹی اے تمام آپریٹرز کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ نشاندہی کی گئی خامیوں کو دور کریں اور ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔