روم۔29مئی (اے پی پی):وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2022 میں انسدادِ ہراسانی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے فری لانسرز، گیگ ورکرز، گھریلو ملازمین، ہوم بیسڈ ورکرز، انٹرنز، طلبہ، اپرنٹس اور ریموٹ ورکرز کو بھی قانونی تحفظ کے دائرے میں شامل کیا ہے، اس قانون میں آن لائن اور ورچوئل ورک پلیسز کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی اومبڈسمین انسٹیٹیوٹ (آئی او آئی ) کی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کے دوران کیا ، جو 28 تا 29 مئی 2026 کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں اطالوی پارلیمنٹ میں منعقد ہو رہی ہے۔
کانفرنس میں 67 ممالک کے اومبڈز ادارے اور عالمی شراکت دار شریک ہیں، جن میں 150 سے زائد اومبڈسمین شامل ہیں، جن میں یورپ کی اومبڈسمین مسز ٹریسا انجینیو، ترکی کے اومبڈسمین مسٹر ارتونچ ارکان بالتا، پولینڈ کی مسز انا بیاؤیک اور دیگر ممتاز نمائندگان شامل ہیں۔ ’’نئے عالمی چیلنجز: پیچیدہ انتظامیہ، ڈیجیٹلائزیشن اور شہریوں کے حقوق‘‘ کے عنوان سے افتتاحی اجلاس میں وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات بشمول ڈیپ فیک، تصاویر اور آواز کی جعلسازی (وائس کلوننگ) اور مصنوعی غیر اخلاقی ڈیجیٹل مواد کا ذکر کیا، جو خواتین کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا خاموش کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے محفوظ طریقۂ ثبوت جمع کرانے، ڈیجیٹل مواد کے فوری تحفظ، سخت رازداری، متعلقہ اداروں کے ساتھ مربوط تعاون اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی احتساب کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2022 میں انسدادِ ہراسانی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے فری لانسرز، گیگ ورکرز، گھریلو ملازمین، ہوم بیسڈ ورکرز، انٹرنز، طلبہ، اپرنٹس اور ریموٹ ورکرز کو بھی قانونی تحفظ کے دائرے میں شامل کیا ہے۔ اس قانون میں آن لائن اور ورچوئل ورک پلیسز کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ فوزیہ وقار نے کہا کہ روم ڈیکلریشن ابھرتے ہوئے گورننس چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی استعدادِ کار کو مضبوط بنانے کی مشترکہ کوششوں کی توثیق کرتا ہے۔
قومی سطح پر وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے کہا کہ پاکستان کا ہراسانی کے خلاف تحفظ کے لیے وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کے ذریعے تجربہ ڈیجیٹل تبدیلی کے مواقع اور پیچیدگیوں دونوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں تحفظات روزگار، رابطے اور انتظام کے بدلتے ہوئے طریقوں کے ساتھ مزید وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات، مؤثر ادارہ جاتی آلات اور رسائی و احتساب پر مسلسل توجہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی ساکھ اس بات پر منحصر ہے کہ شہری خود کو کتنا سنا ہوا، محفوظ اور نمایاں محسوس کرتے ہیں، اور ڈیجیٹلائزیشن انصاف تک رسائی کو زیادہ تیز، محفوظ اور انسانی بنا سکتی ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر فوزیہ وقار نے ڈیجیٹل دور میں انصاف کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل ادارہ جاتی عزم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔