پاکستان نے پانچ دہائیوں کے دوران 16 کروڑ بچوں اور 13 کروڑ ماؤں کو ویکسینز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا،عالمی ادارہ صحت

پاکستان نے پانچ دہائیوں کے دوران 16 کروڑ بچوں اور 13 کروڑ ماؤں کو ویکسینز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا،عالمی ادارہ صحت

اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):پاکستان نے عالمی ادارۂ صحت ( ڈبلیو ایچ او)اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران 16 کروڑ سے زائد بچوں اور 13 کروڑ ماؤں کو جان بچانے والی ویکسینز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا ، یہ پیش رفت 1978 میں پاکستان کے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ( ای پی آئی)کے قیام کے بعد ممکن ہوئی۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق طبی سائنس کی بدولت پاکستان نے 1976 میں چیچک (سمال پاکس) کا خاتمہ کیا، حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام سے اب تک قابلِ انسداد بیماریوں سے ہونے والی تقریباً 26 لاکھ بچوں کی اموات کو روکا جا چکا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ویکسینز نے 1974 سے اب تک 15 کروڑ 40 لاکھ جانیں بچائی ہیں، پاکستان اُن پانچ سرفہرست ممالک میں شامل ہے جہاں ویکسینیشن کے باعث بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئی۔پاکستان نے 1994 سے اب تک فالج زدہ پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی حاصل کی جو کہ اندازاً 20 ہزار کیسز سے کم ہو کر 2025 میں صرف 31 رہ گئے۔

اسی طرح عالمی ادارۂ صحت نے پنجاب، سندھ، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں زچگی اور نوزائیدہ تشنج (ایم این ٹی ای )کے خاتمے کی تصدیق کی ہے جس کے نتیجے میں ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں نوزائیدہ تشنج اب صحت عامہ کا خطرہ نہیں رہا۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان کا ای پی آئی پروگرام بچوں کی مجموعی اموات میں 17 فیصد تک کمی کا باعث بنتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی قیادت اور گیوی، دی ویکسین الائنس کے تعاون سے ہر سال 70 لاکھ سے زائد بچوں اور 55 لاکھ خواتین کو 13 مختلف قابلِ انسداد بیماریوں کے خلاف ویکسین فراہم کی جاتی ہے، اس کے علاوہ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہمات کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو بارہا ویکسین دی جاتی ہے جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت 15 ہزار سے زائد معمول کے ویکسینیٹرز اور 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی تربیت اور معاونت کرتا ہے جو دنیا کا سب سے بڑا پولیو ویکسینیشن نیٹ ورک ہے۔

عالمی ہفتۂ حفاظتی ٹیکہ جات (24 اپریل تا یکم مئی)سے قبل پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو داپینگ نے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، سائنسدانوں، حکام اور شراکت داروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویکسینز زندگی بچاتی ہیں اور بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی شواہد واضح اور مضبوط ہیں لہٰذا فیصلے خوف یا غلط معلومات کے بجائے سائنسی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او پاکستان، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن اور پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے ساتھ مل کر ہر بچے اور ہر ماں تک ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی علاقے یا سماجی و معاشی پس منظر سے ہو۔

حفاظتی ٹیکہ جات کی بدولت نہ صرف اموات میں کمی آئی بلکہ گزشتہ 48 برسوں میں لاکھوں افراد بیماری، معذوری اور ہسپتال داخلے سے بھی محفوظ رہے۔ خسرہ، پولیو، نمونیا اور اسہال جیسی بیماریوں سے تحفظ کے نتیجے میں نہ صرف صحت کے اخراجات میں کمی آئی بلکہ تعلیمی حاضری میں بہتری اور صحت کے نظام پر دباؤ میں بھی کمی واقع ہوئی۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ویکسینیشن کے ذریعے بچائی جانے والی ہر جان کے بدلے اوسطاً 66 سال کی صحت مند زندگی حاصل ہوتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ویکسینز نہ صرف زندگی بچاتی ہیں بلکہ معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتی ہیں۔