پاکستان نے مشرق وسطی کے بحران سے پیداہونے والی صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا ، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب

پاکستان نے مشرق وسطی کے بحران سے پیداہونے والی صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا ، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب

بوسٹن۔13اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے دیگرممالک کے برعکس پاکستان نے مشرق وسطی کے بحران سے پیداہونے والی صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا اوراس دوران شدید سپلائی بحران پیدا ہوا اور نہ ہی امن و امان کے مسائل سامنے آئے،پاکستان آئندہ بیرونی واجبات بروقت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے یہ بات ہارورڈ یونیورسٹی میں ’’پاکستان کا معاشی ایجنڈا۔استحکام، اصلاحات اور آگے کا راستہ‘‘ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطح کے پینل مباحثے میں کہی شرکت۔ یہ نشست پاکستان کانفرنس 2026 کے سلسلے میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کی جبکہ ممتاز ماہرینِ معاشیات پروفیسر عاطف میاں (پرنسٹن یونیورسٹی) اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر ڈیرون ایسیم اوغلو (ایم آئی ٹی) بھی پینل میں شامل تھے۔ اس مباحثے میں ماہرینِ معاشیات، پالیسی سازوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات سے متعلق ترجیحات اور طویل مدتی ترقی کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔اپنے خطاب میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع حالیہ برسوں میں عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑے سپلائی جھٹکوں میں سے ایک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے محتاط اور متوازن پالیسی سازی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں حکومت کی فوری ترجیح یہ رہی کہ محدود ذخائر کے باوجود اہم شعبوں کو توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے، جس کے لیے مختلف وزارتوں اور اداروں نے مشترکہ کوششیں کیں۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں حکومت نے عوام کو بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں سے بچانے کے لیے عمومی سبسڈی دی، جسے بعد میں مالی گنجائش کے مطابق ہدفی سبسڈی اور مکمل قیمتوں کی منتقلی کی پالیسی میں تبدیل کر دیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ پاکستان نے اس صورتحال کو کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر انداز میں سنبھالا اور نہ تو شدید سپلائی بحران پیدا ہوا اور نہ ہی امن و امان کے مسائل سامنے آئے۔بیرونی مالیاتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے قرضوں کے مؤثر انتظام پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالیہ یوروبانڈ کی ادائیگی ایک معمول کا معاملہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان آئندہ بیرونی واجبات بھی بروقت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیرِ خزانہ نے بحران کے دوران پیدا ہونے والے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر ٹرانزٹ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو چند ہفتوں میں 2025 کے پورے سال کے حجم سے بھی تجاوز کر گیا، جبکہ گوادر بندرگاہ کو مکمل طور پر فعال بنانے کی سمت بھی پیش رفت جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مارچ میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت ریکارڈ رقم موصول ہوئی، جو بیرونِ ملک پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ترسیلاتِ زر اگرچہ اہم ہیں، لیکن یہ طویل مدتی ترقی کا مستقل حل نہیں بن سکتیں۔ اس کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی اور خدمات کے شعبے میں تجارت کو فروغ دینا زیادہ پائیدار راستہ ہے۔سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو اصلاحات کے “کیا” اور “کیوں” کا تو ہمیشہ علم رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ “کیسے” کا ہے، یعنی بروقت فیصلے کرنا اور ان پر عمل درآمد یقینی بنانا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل مگر ضروری فیصلوں میں تاخیر نے ماضی میں ترقی کو متاثر کیا اور ملک کو بار بار آئی ایم ایف پروگرامز کی طرف جانا پڑا۔وزیرِ خزانہ نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافہ کرنے پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات کا ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹائزیشن، خودکار نظام اور ڈیٹا پر مبنی طریقہ کار شامل ہیں تاکہ انسانی مداخلت کم ہو اور کارکردگی بہتر ہو۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صنعت کے لیے مسلسل سبسڈی دینے کے بجائے مسابقت اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے حالیہ تجارتی اصلاحات، خصوصاً ٹیرف میں کمی، کو عالمی منڈی سے بہتر انضمام کے لیے اہم قرار دیا۔وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شمسی توانائی کی پیداوار تقریباً 8,000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جس نے حالیہ عالمی جھٹکوں کے دوران معیشت کو سہارا دیا۔ انہوں نے آئندہ دہائی میں قابلِ تجدید توانائی کے حصے میں نمایاں اضافہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اہم اصلاحاتی اقدامات میں چاروں صوبائی اسمبلیوں سے زرعی آمدنی ٹیکس کا قانون منظور ہونا اور سرکاری اداروں کی نجکاری اور تنظیمِ نو شامل ہیں، جن کے تحت 28 سرکاری اداروں کو نجکاری کمیشن کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ مالی بوجھ کم ہو اور حکمرانی بہتر ہو۔

آئندہ کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئےوزیر خزانہ نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو دو بڑے مسائل قرار دیتے ہوئےکہا کہ پائیدار معاشی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبادی میں تیز رفتار اضافے پر قابو نہ پایا جائے اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط حکمت عملی نہ اپنائی جائے۔وزیرِ خزانہ نے تسلیم کیا کہ ریگولیٹری اصلاحات اور کاروبار کرنے میں آسانی جیسے شعبوں میں مزید کام کی ضرورت ہے، اور یہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔یہ مباحثہ عالمی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کے ساتھ رابطے کا ایک اہم موقع ثابت ہوا، جو پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے شفافیت، اصلاحات اور مثبت مکالمے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔