اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):ایک ایسے وقت میں جب قومی سلامتی کو اولین ترجیح حاصل ہےپاکستان نے دنیا کو یاد دلایا ہے کہ ذمہ دار سفارت کاری بھی دفاعی صلاحیت جتنی ہی اہم ہے۔ یہ بات اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اتوار کو میڈیا کو جاری اپنے ایک آرٹیکل میں کہی۔انہوں نے کہا کہ ہماری جوہری صلاحیت ہمیں ایک مضبوط دفاعی ڈھال فراہم کرتی ہے اور گزشتہ مئی میں سامنے آنے والی کمزوریوں کو دور کیا جا رہا ہے تاہم اصل طاقت اس سکیورٹی کو امن کے لیے استعمال کرنے میں ہے،امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ جو اب ساتویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، ہزاروں جانیں لے چکی ہے اور عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کر کے پاکستان نے اپنی سکیورٹی کو امن کے پلیٹ فارم میں بدل دیا ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ 7 اپریل کو انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور دونوں ممالک کے وفود کو اسلام آباد مدعو کیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے ایک طرف امریکی انتظامیہ سے روابط بڑھائے جبکہ دوسری جانب ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھےجس کے باعث اسلام آباد واحد ایسا ثالث بن کر ابھرا جس پر دونوں فریق اعتماد کرتے ہیں۔
اس دوران وفاقی دارالحکومت میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے اور ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے۔پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں عسکری قیادت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ ترتیب دیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور وسیع تر امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی رابطے جاری رکھتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مکالمے کو فروغ دیتا رہے گا اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرے گا۔ایران کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک قدیم تہذیب ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے اور شدید جنگی حالات کے باوجود اس نے اپنی مزاحمت برقرار رکھی ہے۔ اس کا مضبوط نظام اور قومی یکجہتی اسے بڑے نقصانات کے باوجود مستحکم رکھتی ہے۔ تاہم ایران اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس نے جنگی نقصانات کے ازالے اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔
امریکہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر آنے کا فیصلہ قابلِ ستائش ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی اور کہا کہ اگر ایران سنجیدگی دکھائے تو امریکہ بھی تعاون کے لیے تیار ہے،حالانکہ چند روز قبل امریکی انتظامیہ ایران پر حملوں کی دھمکیاں دے رہی تھی لیکن اب براہ راست مذاکرات پر آمادگی ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ جاری تنازعہ کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس سے توانائی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کئی ممالک میں ایندھن کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ کھاد کی کمی عالمی غذائی سپلائی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے میں جنگ بندی اور امن معاہدہ نہایت ضروری ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد کسی ایک فریق کا ساتھ دینا نہیں بلکہ اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ ہے۔ کامیاب مذاکرات سے تجارتی راستے بحال ہوں گے، مہنگائی میں کمی آئے گی اور عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق یہ مرحلہ نہایت اہم ہے اور اس کے لیے تمام فریقین کو لچک اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط دفاع، مؤثر قیادت اور دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے دشمنوں کو بھی مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔ اب تمام فریقین کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پائیدار اور منصفانہ امن کی جانب بڑھنا ہوگا۔