پاکستان میں کچرے اور پلاسٹک کا مسئلہ سنگین ماحولیاتی اور موسمیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، ماہرین کا مشاورتی اجلاس سے خطاب

پاکستان میں کچرے اور پلاسٹک کا مسئلہ سنگین ماحولیاتی اور موسمیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، ماہرین کا مشاورتی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں کچرے اور پلاسٹک کا مسئلہ اب محض صفائی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک سنگین ماحولیاتی اور موسمیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ زیرو ویسٹ پالیسیوں، بہتر ری سائیکلنگ، سرکلر اکانومی اور غیر رسمی ویسٹ ورکرز کی شمولیت سے میتھین کے اخراج میں نمایاں کمی اور قومی موسمیاتی اہداف کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔عالمی یوم ارض کے موقع پر پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور گلوبل الائنس فار انسینریٹر الٹرنیٹوز (جی اے آئی اے) کے اشتراک سے منعقدہ مشاورتی اجلاس میں پلاسٹک آلودگی کے خاتمے اور سائنسی بنیادوں پر پالیسی اقدامات پر زور دیا گیا۔ اجلاس کا مقصد ایسے عملی اقدامات کی تیاری تھا جو میتھین کے اخراج میں کمی، زیرو ویسٹ حکمت عملیوں کے فروغ اور سرکلر اکانومی کو قومی پالیسی میں شامل کرنے میں مدد دیں۔پروگرام آفیسر برائے زیرو ویسٹ سٹیز امبیلی ادیتین نے کہا کہ ویسٹ سیکٹر دنیا میں میتھین گیس کے اخراج کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 45 سے زائد ممالک کاپ۔29 کے تحت نامیاتی فضلے سے میتھین میں کمی کے اعلامیہ کی حمایت کر چکے ہیں جبکہ کاپ۔30 سے قبل اس شعبے کے لئے عالمی مالی وسائل میں اضافہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2050ء تک پلاسٹک عالمی کاربن اخراج کا ایک تہائی حصہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی شہروں نے زیرو ویسٹ اپنایا ہے متعدد ممالک نے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ عالمی مالیاتی ادارے بھی ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کی حمایت کم کر رہے ہیں کیونکہ یہ طریقہ کار زیادہ کاربن اور زہریلے اثرات پیدا کرتا ہے۔ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو زینب نعیم نے کہا کہ ادارہ جی اے آئی اے کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی تجاویز تیار کر رہا ہے جو پاکستان کے قومی موسمیاتی اہداف اور این ڈی سی فریم ورک کو بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خوراک کے ضیاع پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو پالیسی میں ابھی تک مکمل طور پر شامل نہیں ہو سکا حالانکہ پاکستان میں فی کس سالانہ تقریباً 120 کلوگرام خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کے ساتھ ساتھ متبادل نظام، ری سائیکلنگ اور پلاسٹک، درآمدات، مقامی پیداوار اور الیکٹرانک ویسٹ سے متعلق مربوط ڈیٹا سسٹم ناگزیر ہے۔ایس ڈی پی آئی کی محقق آمنہ عروج نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 49.6 ملین ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے جس کا 60 سے 65 فیصد حصہ نامیاتی ہوتا ہے۔ ملک میں 2.7 ملین ٹن پلاسٹک استعمال ہوتا ہے جس میں سے 86 فیصد غیر منظم طریقے سے ضائع ہو جاتا ہے جبکہ صرف 7 سے 9 فیصد ری سائیکل کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سالانہ تقریباً 20 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے جو مجموعی پیداوار کا 26 فیصد ہے۔

اگر اس نامیاتی فضلے کو مو ثر طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس سے 2.4 ارب مکعب میٹر بائیوگیس اور تقریباً 12 ہزار گیگا واٹ /آور توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ماحولیاتی ماہرین شبیہ الحق اور عثمان خان نے کہا کہ پاکستان میں پلاسٹک کی درست درجہ بندی اور سورس سیگریگیشن انتہائی اہم ہے کیونکہ 30 سے 40 فیصد میونسپل کچرا قابلِ استعمال ہونے کے باوجود نظامی کمزوریوں کے باعث ضائع ہو جاتا ہے۔اختتامی مرحلے پر ماہرین اور شرکا نے اتفاق کیا کہ پاکستان کے کچرا نظام کو ماحولیاتی مسئلے سے ایک موسمیاتی موقع میں تبدیل کرنے کےلئے مربوط پالیسی، مضبوط ادارے، درست ڈیٹا اور سرکلر اکانومی میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے تاکہ صاف شہر، صحت مند معاشرہ اور مضبوط قومی موسمیاتی اہداف حاصل کئے جا سکیں۔