پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کا بجٹ 27-2026 سے قبل اشتہاری ٹیکس نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کا بجٹ 27-2026 سے قبل اشتہاری ٹیکس نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن (پی اے اے) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں ایڈورٹائزنگ انڈسٹری پر لاگو ٹیکس نظام میں فوری اور موثر اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ اس شعبے کو درپیش مالیاتی اور انتظامی مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ جمعرات کو جاری کردہ بیان کے مطابق ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس نظام ایک مکمل طور پر دستاویزی، قانون کی پاسداری کرنے والی اور معیشت میں فعال کردار ادا کرنے والی صنعت پر غیر متناسب اور ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہا ہے، جس سے کاروباری پائیداری، مالیاتی بہائو اور ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین احمد حسین کپاڈیہ نے کہا کہ ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں برانڈز کی ترقی، میڈیا ریونیو اور صارفین کی منڈیوں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کسی خصوصی رعایت یا ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ ایسا متوازن اور حقیقت پسندانہ ٹیکس فریم ورک چاہتی ہے جو ایجنسیوں کی اصل آمدنی کے مطابق ہو۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے تحت کمیشن کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس سیلز ٹیکس سمیت انوائس کی مجموعی رقم پر عائد کیا جاتا ہے، جبکہ مؤثر ریفنڈ نظام نہ ہونے کے باعث اضافی ٹیکس بوجھ پیدا ہو جاتا ہے جو اکثر خالص آمدنی پر عائد 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس شرح سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں “ایڈورٹائزنگ سروسز” کی واضح قانونی تعریف نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بیان کے مطابق اس ابہام کے باعث متعدد ودہولڈنگ ایجنٹس اشتہاری خدمات کو غلط زمروں میں شامل کرکے قابل اطلاق 6 فیصد کے بجائے 15 فیصد شرح سے ٹیکس منہا کر لیتے ہیں، جس سے صنعت کو غیر ضروری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پی اے اے نے اپنی تجاویز میں کمیشن کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد اور سروس انکم پر 6 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ ’’ٹیکس پر ٹیکس‘‘ کے مسئلے کے خاتمے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کے حساب سے سیلز ٹیکس کو خارج کرنے، ’’ایڈورٹائزنگ سروسز‘‘ کی واضح قانونی تعریف متعارف کرانے اور طویل کریڈٹ سائیکلز کے باعث پیدا ہونے والے لیکویڈیٹی پریشر کو کم کرنے کے لیے اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ان اصلاحات سے ٹیکس نظام میں شفافیت اور دستاویزی عمل کو فروغ ملے گا، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی میں بہتری آئے گی، قانونی تنازعات میں کمی ہوگی اور اشتہارات کا شعبہ معیشت، روزگار اور قومی آمدنی میں اپنا مؤثر کردار مزید بہتر انداز میں ادا کر سکے گا۔