اسلام آباد۔16اپریل (اے پی پی):پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز (PAPS) کی 30ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس اہم کانفرنس نے پاکستان میں طبی تعلیم، تحقیق اور جدید سرجیکل طریقہ کار کے فروغ میں ایک نئے سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔کانفرنس کے انعقاد میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (SIFC) کی کاوشیں نمایاں رہیں، جن کے باعث صحت کے شعبے میں اصلاحات اور جدید طبی تحقیق کو نئی سمت ملی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا ہیلتھ سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اپنی بڑھتی ہوئی صلاحیت، جدت اور سرمایہ کاری کے مواقع کے باعث عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔تقریب میں 400 سے زائد مندوبین، 12 بین الاقوامی ماہرین اور ملک بھر کے ممتاز تدریسی اداروں سے تعلق رکھنے والے سرجنز نے بھرپور شرکت کی۔
کانفرنس کے دوران سائنسی سیشنز، تحقیقی مباحثوں اور نیٹ ورکنگ مواقع نے شرکا کو جدید رجحانات اور تجربات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔کانفرنس میں نان انویسیو جمالیاتی طریقہ کار، جدید ٹیکنالوجی اور جدید سرجیکل تکنیکوں پر خصوصی سیشنز اور لائیو ڈیمانسٹریشنز پیش کی گئیں، جو شرکاء کی خصوصی توجہ کا مرکز رہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں پاکستان میں جدید طبی مہارتوں کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں۔شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے پروفیسر مامون رشید نے کانفرنس کو علمی لحاظ سے نہایت مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں شامل تعلیمی سیشنز شرکا کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ ترکی سے آئے ڈاکٹر شرفیتکے نے اسے ایک خوشگوار اور نتیجہ خیز تجربہ قرار دیا، جبکہ بنگلہ دیش کے ڈاکٹر سعید احمد صدیقی نے کانفرنس کے اعلیٰ سائنسی معیار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق اس کانفرنس نے نہ صرف پاکستان میں پلاسٹک سرجری کے شعبے کو تقویت دی بلکہ عالمی سطح پر طبی تعاون اور پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی مزید مستحکم کیا ہے۔پاکستان کا میڈیکل ٹورازم کی جانب اہم قدم کانفرنس کے موقع پر پاکستان نے صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشی ایٹو کا باضابطہ آغاز بھی کیا۔ یہ اقدام پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز نے ایس آئی ایف سی کے تعاون سے شروع کیا ہے، جس کا مقصد ملک کو عالمی سطح پر ایک نمایاں طبی مرکز کے طور پر متعارف کرانا ہے۔اس منصوبے کے تحت پاکستان کو اعلیٰ معیار کی، کم لاگت پلاسٹک اور تعمیرِ نو (ریکانسٹرکٹیو) سرجری کے لیے ایک علاقائی ہب بنانے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ بین الاقوامی مریضوں کے لیے ملک کو ایک پرکشش طبی منزل کے طور پر بھی فروغ دیا جائے گا۔ایس آئی ایف سی حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے صحت کے نظام کو مستحکم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ملک کی طبی پہچان کو بھی مزید بہتر بنائے گا۔