اسلام آباد۔28اپریل (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں تعلقات کو صرف تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے سرمایہ کاری، جدت اور پائیدار ترقی کی سمت میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔منگل کو یورپی یونین۔پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فورم محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے کا اہم لمحہ ہے جہاں دونوں خطوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت اس اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں مشکل معاشی حالات کے باوجود معیشت کو استحکام ملا اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ معاشی بحالی صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ مؤثر قیادت اور اعتماد سے ممکن ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کی علامت بن کر ابھرا ہے اور اس نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مکالمے و ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو ترجیح دی ۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جی ایس پی پلس سکیم نے ملکی برآمدات اور معیار کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا ۔معاونِ خصوصی نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلقات کو تجارت سے آگے بڑھا کر سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور جدت کی طرف لے جایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سے لے کر ٹیکنالوجی تک پاکستان عالمی سپلائی چین میں اہم شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ 24 کروڑ آبادی کے ساتھ پاکستان بڑی اور ابھرتی منڈی ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان اہم تجارتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتی ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ صنعتی بحالی حکومت کے معاشی وژن کا مرکزی ستون ہے اور اس کے تحت عارضی حل کے بجائے دیرپا ساختی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارخانے چلیں گے تو روزگار بڑھے گا اور معیشت مضبوط ہوگی، ایس ایم ایز کو بااختیار بنا کر معیشت کو مزید مسابقتی بنایا جا رہا ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ قومی ٹیرف پالیسی کے ذریعے کاروبار میں آسانی اور لاگت میں کمی لائی جا رہی ہے جبکہ ریگولیٹری گلوٹین اقدام کے تحت غیر ضروری رکاوٹیں ختم کی جا رہی ہیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو سہولت، یقین دہانی اور وسعت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، سپیشل اکنامک زونز کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیو انرجی وہیکل پالیسی کے ذریعے ماحول دوست ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور پاکستان برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری سے چلنے والی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے معدنی وسائل برآمدات میں انقلاب لا سکتے ہیں، نوجوان کاروباری افراد اور ہنر مند افرادی قوت ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے سیاحت، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، فارماسیوٹیکل، لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اصلاحات کے ذریعے خود کو مستحکم اور پرکشش سرمایہ کاری مرکز کے طور پر منوایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تبدیلی کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا معمار بننے کے لیے پرعزم ہے اور سرمایہ کاری کے لیے یہی درست وقت ہے۔