اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے ماہی گیری کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار پاکستانی مچھلی اور سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے ملکی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 16 کمپنیوں کو روس کو مچھلی برآمد کرنے کی اجازت مل چکی ہے، جو اس شعبے میں ایک تاریخی کامیابی ہے۔ وزیر بحری امور کے مطابق روسی مارکیٹ تک رسائی کے بعد یوریشین اکنامک یونین کے دیگر ممالک تک بھی پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ سی فوڈ برآمدات کے لیے بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سالانہ سی فوڈ برآمدات 500 ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ روسی مارکیٹ میں داخلے سے یہ حجم بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ روس کو برآمدات کے ذریعے ابتدائی طور پر 300 ملین ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔ سی فوڈ کی ترسیل کے لیے سمندری، فضائی اور زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی راستہ کم لاگت تجارتی راہداری ثابت ہوگا۔ وزیر بحری امور نے کہا کہ قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں پاکستانی مچھلی کی بڑی طلب موجود ہے، جس سے برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور بہتر انفراسٹرکچر اور عالمی معیار پر عملدرآمد سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی گرم پانی کی مچھلیاں عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، اور حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔